سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 276

سيرة النبي علي 276 جلد 3 نے ابو جہل کی گردن پر تلوار مار کر اسے ایسا زخمی کر دیا کہ وہ بعد میں ہلاک ہو گیا 1۔یہ وہ جنگ تھی جس میں مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا حتی کہ بعض تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس اسلحہ بھی پورے نہ تھے۔بعض کے پاس تلواریں بھی نہ تھیں۔ایسے بے سامان اپنے سے تین گنا دشمن کے ساتھ لڑے اور عرب کے بڑے بڑے صنادید جو آنحضرت عالیہ کے مقابل پر ہمیشہ لڑتے رہے تھے یا تو مارے گئے یا بری طرح شکست کھا کر میدان سے بھاگ گئے۔مگر ایک اور لڑائی الله ہوئی جو رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں اور آپ ﷺ کی زندگی میں ہی ہوئی۔اس میں اسلامی لشکر بارہ ہزار تھا اور کفار تین چار ہزار کے قریب مگر جس وقت اسلامی لشکر بڑھ رہا تھا دشمن کے تیر انداز دروں میں چھپے ہوئے تھے انہوں نے اسلامی لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی اور اتنے زور سے تیر برسائے کہ بارہ ہزار کا لشکر تین چار ہزار لشکر کے مقابلہ میں بھاگ نکلا اور رسول کریم ﷺ کے پاس ان بارہ ہزار میں سے صرف بارہ آدمی رہ گئے اور ایسے خطرے کی حالت پیدا ہو گئی کہ صحابہؓ نے سمجھا اس وقت ہماری سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ ہم رسول کریم ہٹا لیں۔چنانچہ بعضوں نے آپ ﷺ کی سواری کی باگوں کو تھام لیا اور آگے بڑھنے سے روکا اور چاہا کہ آپ کے پیچھے ہٹیں مگر آپ نے فرمایا چھوڑ دو! نبی اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹا یا کرتا۔آپ نے اپنی سواری آگے بڑھائی اور فرمایا أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ صلى الله أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں مگر خدا کا نبی اور رسول ہوں میں جھوٹا نہیں۔پھر آپ نے حضرت عباس کو فرمایا آواز دواے انصار ! خدا اور اس کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔انہوں نے آواز دی۔ایک انصاری کا بیان ہے کہ نو مسلم دو ہزار کے قریب تھے جو کہا کرتے تھے اب ہمیں خدمت بجا لانے کا موقع ملنا چاہئے اور آگے ہو کر لڑنا چاہئے۔چونکہ وہ لوگ اسلام میں حدیث العہد تھے اور ایمان میں پختہ نہیں تھے اس لئے جب تیر