سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 275
سيرة النبي علي 275 جلد 3 رسول کریم علیہ کی شجاعت اور جانثار صحابہ حضرت مصلح موعود 3 اپریل 1931ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔عبد الرحمن بن عوف جو پرانے تجربہ کار اور مشہور جرنیل تھے انہیں ان میں سے ایک لڑکے نے کہنی مار کر دریافت کیا چا! وہ ابو جہل کون ہے جس نے مکی زندگی میں رسول کریم ﷺ کوسخت از بیتیں پہنچائی ہیں؟ وہ کہتے ہیں میں افسوس کر رہا تھا کہ آج ہمیں ان تمام تکالیف کا بدلہ لینے کا موقع ملا ہے جو کفار نے رسول کریم ﷺ کو اور ہمیں پہنچائیں مگر میرے دائیں بائیں دولڑ کے ہیں۔اگر مضبوط آدمی ہوتے تو ان کی مدد سے میں بھی نمایاں کام کرتا مگر اب انہوں نے میری کیا مدد کرنی ہے الٹا مجھے ان کی مدد کرنی پڑے گی اور ان کی حفاظت کا خیال رکھنا پڑے گا۔وہ اسی خیال میں تھے کہ ایک نے ان سے پوچھا ابو جہل کون ہے؟ معاً اُسی وقت دوسرے لڑکے نے بھی آہستگی سے کہنی مار دی تا کہ اس کا دوسرا ساتھی نہ سن لے اور پوچھا چچا! ابوجہل کون ہے؟ وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے خیال کیا میں نے غلط سمجھا تھا کہ یہ بچے ہیں یہ کچھ نہیں کرسکیں گے بلکہ یہ دراصل کفار کے لئے مصیبت ہیں، بلا ہیں اور عذاب ہیں جو خدا کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں۔انہوں نے انگلی اٹھائی اور اشارہ سے بتایا کہ وہ ابوجہل ہے۔اس کے آگے اور پیچھے عرب کے مشہور جرنیل کھڑے تھے، چاروں طرف سے وہ لوگوں میں گھرا ہوا تھا مگر ان کے انگلی اٹھانے کی دیر تھی کہ وہ دونوں بچے یوں جھپٹے جس طرح ایک چیل بوٹی پر جھپٹا مارتی ہے یا ایک شکرا اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ان میں سے ایک تو راستہ ہی میں مارا گیا مگر دوسرا پہنچ گیا اور اس