سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 273

سيرة النبي علي 273 جلد 3 کی روٹی کھا رہی تھیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اس نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا میں یہ روٹی کھا تو رہی ہوں کیونکہ خدا کی نعمت ہے مگر تکلیف بھی محسوس کر رہی ہوں کیونکہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں چکیاں نہ ہوتی تھیں۔ہم پتھروں پر دانے گوٹ کر آٹا بناتے تھے جو بہت موٹا ہوتا تھا اور اس کی روٹیاں رسول کریم لے کھایا کرتے تھے۔اگر آپ یہ آج زندہ ہوتے تو ہم یہ روٹیاں آپ ﷺ کو کھلاتے 1۔اگر چہ ترقی کا زمانہ آ گیا اور رسول کریم ﷺ پر تکالیف اور مصائب کا زمانہ گزر گیا پر یہ تکالیف ہمیں ہی نظر آتی ہیں آپ انہیں تکالیف نہ سمجھتے تھے مگر حضرت عائشہ کے گلے کو عمدہ آئے والی روٹی پکڑ لیتی تھی اور آپ کے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔اب اس کا ہم پر بھی اثر ہوتا ہے اور میں تو جب یہ واقعہ پڑھتا ہوں یا بیان کرتا ہوں تو میرے گلے میں بھی کوئی چیز پھنے لگتی ہے۔حالانکہ بظاہر یہ امر ہنسی کے قابل معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب اس زمانہ کو چودہ سو سال گزر چکے۔خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ پر بعد میں بہت فضل بھی کئے ، آپ ﷺ کو وفات سے قبل فتوحات بھی دیں، طاقت دی، پھر آپ کے غلاموں کو طاقت اور بادشاہت عطا کی ، وہ بڑے بڑے بادشاہوں کے تخت پر متمکن ہوئے اور ان کے زیور اور لباس آپ ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق غریب مسلمانوں میں تقسیم کئے گئے۔گویا بالکل نئے حالات پیدا ہو گئے مگر آج بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی تکلیف کا کوئی واقعہ پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز دل کو مسلنے لگ گئی ہے۔یہ بظاہر ایک مجنونانہ سی بات ہے مگر کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس جنون کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو؟ دنیا کی تمام عقلیں اس جنون پر قربان اور دنیا کی تمام خوشیاں اس رنج پر فدا کرنے کے قابل نظر آتی ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے ایسے اخلاق دیے کہ اس چھری نے آج چودہ سو سال کے بعد بھی ہم سب کو ذبح کر رکھا ہے۔آپ ﷺ کے اخلاق آج بھی ہمارے دلوں پر اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔گویا آپ ﷺ کے اخلاق وائرلیس کا سب