سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 274
سيرة النبي مله 274 جلد 3 سے بڑا آلہ تھا۔وائرلیس کا آلہ دس پندرہ ہزار میل پر خبر پہنچا سکتا ہے مگر رسول کریم کے اخلاق وائرلیس کا ایسا زبردست آلہ ہیں کہ نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ آج چودہ سوسال بعد بھی وہ خبر برابر چلی جا رہی ہے۔دراصل یہ ہے صحیح رمضان جو نہ صرف اپنے اندر گرمی پیدا کر دے بلکہ دوسروں کے دلوں کو بھی گرما دے۔اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بھی اسی گرمی سے گرما دیں۔مومن کو ہر بات میں لوگوں سے آگے ہونا چاہئے اور اسے صبر نہیں آنا چاہئے جب تک سب سے بالا مقام پر نہ پہنچ جائے۔مومنانہ غیرت یہ کس طرح گوارہ کر سکتی ہے کہ نہ ماننے والے ماننے والوں سے کسی بات میں آگے بڑھ جائیں۔لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ مومن تو دنیا میں صرف چند لاکھ ہوں اور منکر کروڑوں کی تعداد میں ہوں۔کیا کوئی زندہ قوم اس ذلت کو برداشت کر سکتی ہے۔پس تم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے کہلاتے ہو اور آپ کے ذریعہ محمد رسول اللہ علیہ کے سپاہیوں میں داخل ہو چکے ہو تمہارا فرض ہے کہ اُس وقت تک دم نہ لو جب تک تمام دنیا کو آپ ﷺ کی غلامی میں داخل نہ کر لو۔پھر کیا کوئی غیرت مند مومن یہ بات برداشت کر سکتا ہے کہ جو اخلاق محمد ﷺ دنیا میں پیدا کرنا چاہتے تھے وہ تو دنیا سے مفقود ہو جائیں اور ان کی جگہ اور باتیں لے لیں۔کیا یہ گرمی کہلا سکتی ہے گرم جوشی آگے نکلنے کا نام ہے۔ٹھنڈی چیز ہمیشہ دب کر رہتی ہے۔گرمی تو ابل ابل کر باہر نکلتی ہے جس طرح ہنڈیا اُبلتی ہے۔رمضان کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کا بندہ ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ اُبل رہا ہے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا ہم اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لئے اسی طرح اُبل رہے ہیں جس طرح اُبلنے کا حق ہے۔“ صلى (الفضل 19 فروری 1931ء) 1 ترمذى ابواب الزهد باب ما جاء في معيشة النبي صلى الله عليه وسلم واهله صفحہ 588 حدیث نمبر 2356 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى