سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 272

سيرة النبي علي 272 جلد 3 رسول کریم علیہ کے اخلاق کے گہرے اثرات وو حضرت مصلح موعود نے 13 فروری 1931 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔صلى الله رسول کریم و اگر لوہے کی تلوار سے دنیا کو فتح کرتے تو آپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ تلوار زنگ آلود ہو جاتی۔مگر چونکہ آپ نے اخلاق کی تلوار سے دنیا کو فتح کیا اور نئی زندگی عطا کی اس لئے چودہ سو سال کے قریب گزر جانے کے بعد بھی آپ علی کی تلوار اسی طرح لوگوں کو اپنے آگے جھکا رہی ہے جس طرح پہلے زمانے میں جھکاتی تھی۔ہم لوگ کون ہیں؟ وہی جنہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی تلوار نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے ذبح کیا۔ہم لوگ وہ بکریاں ہیں جنہوں نے اپنی مرضی سے وہ چھری اپنی گردنوں پر چلوائی اس لئے ہمیں نئی زندگی عطا کی گئی لیکن جن کی گردنوں پر وہ زبر دستی چلائی جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے مرجاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے انبیاء گڈریا اور رائی ہوتے ہیں اور تمام دنیا ان کے سامنے بکریوں کی مانند ہوتی ہے۔جو لوگ اپنی مرضی سے اپنی گردنوں پر تلوار چلاتے ہیں انہیں نئی زندگی عطا کی جاتی ہے لیکن جن گردنوں پر وہ خفگی اور ناراضگی سے چلائی جائے وہ ہمیشہ کے لئے نابود ہو جاتے ہیں۔ہمیں اپنے حالات اور تکالیف یا د کر کے اتنا دکھ نہیں پہنچتا جتنا محمد رسول اللہ ﷺ کی تکالیف اور مصائب کا حال پڑھ کر ہوتا ہے۔وہ حالات یاد کر کے آج بھی ہچکی بندھ جاتی ہے۔ایک چھوٹی سی بات ہے۔رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جب مسلمانوں کو ترقیات حاصل ہوئیں اور ہر قسم کے آرام و آسائش کے سامان مہیا ہو گئے تو ایک دفعہ ایک عورت نے حضرت عائشہ کو دیکھا آپ عمدہ آئے صلى الله