سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 242
سيرة النبي علي 242 جلد 3 عرفانِ الہی اور محبت باللہ کا مرتبہ صا الله اور رسول کریم علی جب ہندوؤں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق انتہائی دل آزار کتاب ”رنگیلا رسول اور رسالہ ” در تمان“ شائع ہوئے تو حضرت مصلح موعود نے 1927ء میں یہ تحریک جاری فرمائی کہ سارے ہندوستان میں ایک دن جلسہ کر کے رسول کریم ﷺ کی سیرت پر روشنی ڈالی جائے۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پر 26 اکتوبر 1930ء کا دن سیرۃ النبی کے جلسوں کے لئے مقرر ہوا۔حضرت مصلح موعود نے قادیان کے جلسہ میں اُس روز جو تقریر کی وہ درج ذیل ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔رسول کریم ﷺ کی تعریف کرنا بے شک ایک مسلمان اپنے مذہب کے لحاظ صلى الله سے ثواب کا کام سمجھتا ہے اور غیر مذاہب والے بھی جنہیں رسول کریم علیہ کے حالات پڑھنے کا موقع ملا ہو اور جو صداقت کے اظہار کی جرات رکھتے ہوں اظہارِ صداقت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ رسول کریم علیہ کی تعریف و توصیف کریں۔مگر ایک چیز ہے جسے ہم کسی صورت میں بھی قربان نہیں کر سکتے اور کسی کے لئے بھی قربان نہیں کر سکتے ، خواہ وہ رسول کریم ﷺ کی ذات ہی کیوں نہ ہو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس لئے کوئی بات ایسی نہیں کہنی چاہئے جس میں شرک کا ایک شائبہ بھی پایا جاتا ہو۔ہمیں محمد ﷺ کی ذات سے محبت اس لئے ہے کہ آپ کی ذات خدا نما ہے۔اگر خدا نمائی کو آپ کی ذات سے علیحدہ کر دیا جائے تو پھر آپ بھی ایسے ہی انسان ہیں جیسے دوسرے