سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 230
سيرة النبي عمر 230 جلد 3 اِلَيْهِ تَبْتِيلًا 1 - غالباً اس زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔سر میور محقق تو بہت ہیں لیکن تعجب ہے کہ انہیں اس قدر بھی خیال نہیں آیا کہ یہ آیات مسلمہ طور پر پہلے سالِ نبوت کی ہیں اور سورۃ مز مقتل جس کا وہ حصہ ہیں نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہے بلکہ بعض محققین تو اس سورۃ کو ابتدائی سورتوں میں سے سمجھتے ہیں۔پس جو سورۃ کہ ابتدائی زمانہ میں اتری ہے اس میں اس محنت کا ذکر جو پانچویں یا دسویں سال میں بقول ان کے رسول کریم ﷺ کو کرنی پڑی خود ایک معجزہ ہے کیونکہ کون شخص پانچ چھ سال بعد کی ایسی بات بنا سکتا ہے جو اس کے اختیار میں نہ ہو۔خلاصہ یہ کہ دشمنان اسلام اس معجزہ کو ہلکا کر کے دکھانے کے لئے اس قدر کوشش کرتے رہتے ہیں کہ خود وہ کوشش ہی اس امر کا ثبوت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے اس معجزہ کو وہ دل میں تسلیم کرتے ہیں۔ورنہ اس قدر گھبراہٹ اور تشویش کی کیا ضرورت تھی۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی کتاب اپنی ذات میں معجزہ نہیں ہے۔بلکہ اس کے نزول سے پہلے وہ بے شک اپنے زمانے کے لوگوں کے لئے معجزہ ہوں گی لیکن اس سورج کے طلوع کے بعد وہ ستاروں کی طرح مدھم پڑ گئیں۔اب حال یہ ہے کہ جو قصے ان کتب میں پائے جاتے ہیں ان کے ذریعہ سے تو وہ اسلام کا مقابلہ کر لیتے ہیں کیونکہ قصوں میں جس قد رکوئی چاہے جھوٹ اور مبالغہ آمیزی سے کام لے لے۔اگر رسول کریم ﷺ کے ذریعہ سے کسی شفا کا ذکر کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں ایک مسیحی دس قصے سنا دے گا اور اگر اس پر استعجاب کا اظہار کیا جائے تو جھٹ کہہ دے گا کہ اگر تمہاری روایت قابل تسلیم ہے تو میری کیوں نہیں؟ لیکن اگر اس سے یہ کہا جائے کہ رسول کریم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے اور یہ زندہ معجزہ ہے۔اس کی بنیاد روایتوں پر نہیں بلکہ حقیقت پر ہے۔تو اس کے جواب میں سوائے خاموشی کے اور ان کے پاس کچھ نہیں رہتا۔وہ اپنی کتابوں کو پیش نہیں کر سکتے۔کیونکہ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی کتب محرف و مبدل ہیں اور اگر بعض ضدی اسے۔