سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 229

سيرة النبي علي 229 جلد 3 کہ نبی کریم ﷺ کو سوائے قرآن کریم کے کوئی معجزہ نہیں ملا اور اس سے انہیں یہ بتانا مطلوب ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بھلا کیا معجزہ ہونا تھا۔پس اگر اس کے سوا کوئی معجزہ نہیں ملا تو گویا کوئی معجزہ ہی نہیں ملا۔لیکن یہ خیال ان لوگوں کا محض نا سمجھی یا حماقت پر مبنی ہے۔اول تو یہ درست نہیں کہ قرآن کریم کے سوا رسول کریم ﷺ کو کوئی اور نشان نہیں ملا۔آپ کی زندگی کا تو ہر پہلو ایک معجزہ تھا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر معجزات دیئے کہ سب انبیاء کو مجموعی طور پر بھی اس قدر منجزات نہ ملے ہوں گے۔لیکن اگر ہم فرض کر لیں کہ اور کوئی معجزہ آپ کو نہیں ملا تب بھی قرآن کریم کا معجزہ سب معجزات سے بڑھ کر ہے اور وہ ایک ہی آپ کے سب نبیوں پر برتر ہونے کا ثبوت ہے۔چونکہ بعض لوگوں کو یہ خیال ہے کہ جب قرآن کریم کو معجزہ قرار دیا جاتا ہے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس کی زبان بہت فصیح ہے اس وجہ سے یہ لوگ قرآن کریم کے مختلف عیوب بیان کرتے رہتے ہیں اور اس کوشش میں ایسی ایسی احمقانہ حرکات کر بیٹھتے ہیں کہ ہنسی آ جاتی ہے۔چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب ”سوان محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں لکھتے ہیں کہ پانچویں سال سے دسویں سال قبل ہجرت میں رسول کریم ﷺ نے قرآن کریم میں یہودی کتب کے مضامین بیان کرنے شروع کئے اور اس وجہ سے قرآن کریم کا وہ پہلا انداز بیان نہ رہا اور بڑی مشکل سے یہودی روایات کو عربی زبان میں داخل کرنے کے آپ قابل ہوئے اور چونکہ دن کو تو آپ کو فرصت نہیں ہوتی تھی اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ راتوں کو جاگ جاگ کر آپ محنت سے وہ ٹکڑے تیار کرتے ہوں گے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات يَايُّهَا الْمُزَّمِّلُ - قُمِ الَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا - نِصْفَةَ أَوِ انْقُصُ مِنْهُ قَلِيْلًا - اَوْزِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيْلًا - إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا - إِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيْلًا - إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا - وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ