سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 231
سيرة النبي علي 231 جلد 3 تسلیم نہیں کرتے تو کم سے کم تاریخی ثبوت اس قدر زبر دست موجود ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔وید کے نسخوں میں اس قدر اختلاف ہے کہ مختلف نسخے مل کر کئی نئے وید بن جاتے ہیں۔آخر کانٹ چھانٹ کر ایک نسخہ تیار کیا گیا ہے۔توریت کا یہ حال ہے کہ اس میں یہاں تک لکھا موجود ہے کہ پھر موسی" مر گیا اور آج تک اس جیسا کوئی نبی پیدا نہیں ہوا2 حالانکہ اس کتاب کی نسبت کہا جاتا ہے کہ خود موٹی پر نازل ہوئی تھی۔دوسری کتب بائبل کی ایسی ہیں کہ اختلافات کی وجہ سے ایک حصہ کی دوسرے حصہ سے شکل نہیں پہچانی جاتی۔انجیل میں خود مسیحی آئے دن تغیر و تبدل کرتے رہتے ہیں اور کبھی کسی آیت کو صحیح قرار دے کر اس میں داخل کر لیتے ہیں دوسرے وقت میں اسے ردی قرار دے کر پھینک دیتے ہیں۔اور اب تو بعض بابوں تک کی صفائی ہونے لگی ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ یہ الحاقی باب ہیں۔مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر انجیل کسی معتبر ذریعہ سے پہنچی تھی تو الحاق کا زمانہ انیس سو سال تک کس طرح لمبا ہو گیا؟ معنوں کے فرق کو تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پچھلوں نے معنی نہیں سمجھے ہم نے سمجھ لئے ہیں۔لیکن ظاہر الفاظ کے متعلق ہم کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں کہ پچھلوں نے ان کو داخل کر دیا اور اب موجودہ نسلوں نے انیس سو سال بعد حقیقت کو معلوم کر لیا۔جو لوگ ان بابوں اور آیتوں پر عمل کرتے رہے ان کی زندگیاں تو برباد گئیں اور ان کا عرفان تو تباہ ہوا۔وہ کتاب آسمانی جس میں دو ہزار سال تک زائد ابواب اور زائد آیات شامل رہیں اس پر بنی نوع انسان کیا یقین کر سکتے ہیں۔اور آئندہ کے لئے کیا اعتبار ہو سکتا ہے کہ کچھ اور ابواب خارج نہ کر دئیے جائیں۔ممکن ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے کہ جس طرح بعض محققین کا خیال ہے کہ ساری انجیل میں صرف ایلِی اِبلِی لِمَا سَبَقْتَنِی، یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا کا ایک فقرہ ہے جسے مسیح کے منہ سے نکلا ہوا کہا جاسکتا ہے۔اس فقرہ کو انجیل قرار دے کر سب حصوں کو اڑا دیا جائے۔مگر یہ