سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 205
سيرة النبي عمال 205 جلد 3 پھر آنحضرت ﷺ کی وفات پر جب حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو ان کے باپ سے کسی نے کہا ابوبکر مسلمانوں کا خلیفہ ہو گیا۔اس پر وہ تعجب سے پوچھنے لگے کون ابوبکر ؟ کیا ابو قحافہ کا بیٹا ؟ جب ان کو یقین دلایا گیا کہ وہی خلیفہ ہوئے ہیں تو وہ دریافت کرنے لگے کیا بنو ہاشم نے ان کو مان لیا ہے؟ بنو عبدالشمس، بنو عبدالمطلب وغیرہ نے ان کی اطاعت اختیار کر لی ہے؟ جب کہا گیا کہ ہاں سب نے مان لیا ہے تو حضرت ابوبکر کے والد نے اگر چہ وہ پہلے سے اسلام میں داخل تھے مگر کمزور ایمان رکھتے تھے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا آج مجھے یقین ہو گیا کہ اسلام سچا ہے 3۔یہ آنحضرت ﷺ کی ہی قوت قدسیہ کا اثر ہے کہ ان قبائل نے ابوبکر کی اطاعت اختیار کر لی اور نہ ابوبکر کی کیا حقیقت تھی۔پھر حضرت ابو ہریرہ کو دیکھو۔فتوحات کے زمانہ میں ایک دن ریشمی رومال میں تھوک کر کہنے لگے واہ واہ ابو ہریرہ۔ایک وہ زمانہ تھا کہ بھوک کے مارے بے ہوش ہو جانے پر لوگ مرگی کے خیال سے جوتیاں مارا کرتے تھے اور ایک یہ زمانہ ہے ریشمی رومالوں میں تھوکتے ہو۔پاس بیٹھنے والوں نے یہ بات سن کر پوچھا آپ نے کیا الله فرمایا؟ کہنے لگے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں میں ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہتا تا کہ ب آپ باہر تشریف لائیں اور کچھ فرما ئیں تو میں سن سکوں اس وجہ سے میرے کھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہ تھا۔بعض دفعہ سات سات فاقے کرنے پڑتے تھے اور بعض اوقات شدت بھوک کے سبب بے ہوشی طاری ہو جاتی اور اس بے ہوشی کو مرگی خیال کیا جاتا اور عرب کے رواج کے ماتحت اس کا علاج جو نیوں سے کیا جاتا۔ایک دفعہ جب کہ بھوک نے بہت ستایا تو میں نے صدقہ کی آیت نکال کر حضرت ابو بکر کے پیش کی۔انہوں نے اس کا مطلب بیان کیا اور چل دئیے۔اسی طرح حضرت عمرؓ کے پیش کی۔انہوں نے بھی مطلب بیان کیا اور چل دیئے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں جب وہ مطلب بیان کر کے چل پڑتے اور آیت کے پیش کرنے سے میری غرض کو نہ