سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 204

سيرة النبي علي 204 جلد 3 جانے کا مجھے کچھ بھی ڈر نہیں وہ خدا جس نے مجھے بادشاہت عطا کی میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور یہ ظلم جو تم مجھ سے کرانا چاہتے ہو ہر گز نہیں کروں گا۔ایک وقت تو یہ حالت تھی لیکن پھر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ یہ اسلام، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کے دشمن مسلمان ہوئے اور اخلاص میں اعلیٰ درجہ کی ترقی کی۔یہی عمرو بن عاص جب مسلمان ہو گئے تھے تو اپنے متعلق کہنے لگے مجھ پر دو زمانے آئے ایک اسلام کی مخالفت کا اور ایک موافقت کا۔مخالفت کے زمانہ میں میں نبی کریمہ سے ایسا بغض رکھتا تھا کہ حقارت سے کبھی چہرہ نہیں دیکھتا تھا پھر موافقت کا زمانہ آیا اس میں نبی کریم ﷺ کی محبت اس قدر دل میں جاگزیں ہوئی اور آپ کا جلال ایسا تھا کہ میں رعب کی وجہ سے آپ کے چہرہ کی طرف نگاہ نہیں کر سکتا تھا۔ابو جہل کا لڑکا عکرمہ تھا پہلے مخالفت کرتا رہا،لڑائیوں میں سرگرم حصہ لیتا تھا مگر جب اسلام اختیار کیا تو ہر طرح کی قربانیاں کیں، جان و مال سے دریغ نہ کیا اور اسلام کی اس قدر خدمت کی کہ اپنا پورا جان نثار ہونا ثابت کر دیا۔غرضیکہ وہ دشمنان اسلام جو سخت مخالفت پر تلے رہتے تھے آخر کا رانہوں نے حقانیت کو مانا اور مان کر ہر طرح کی قربانیوں میں حصہ لیا۔اسی طرح ایک وقت تو وہ تھا کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو گھروں سے باہر اور نکلنا دشوار تھا، اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر گزارہ کرنا پڑتا تھا تا کہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں۔لیکن پھر وہ بھی زمانہ آیا کہ آنحضرت علے فاتح کی حیثیت سے ایک جرار لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔اس طرح وہ دن آیا کہ دشمن کو دروازے بند کر لینے پڑے اور کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ باہر نکل سکے۔وہ لوگ جو غریب سمجھے جاتے تھے اور جو اتنے مظلوم تھے کہ کوئی ان کی فریاد کو نہیں پہنچتا تھا اُس وقت وہ فاتح کی حیثیت سے داخل ہو رہے تھے اور اُس دن خدا تعالیٰ نے دشمنوں کو دکھا دیا کہ کس طرح چھوٹے بڑے بنائے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے کر دیے جاتے ہیں۔