سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 198

سيرة النبي م 198 جلد 3 میں کھڑے ہو کر کہا ہو آج ہم دشمن کی خوب خبر لیں گے اور اسے پوری پوری شکست دیں گے۔اب میں اپنی تقریر ایک واقعہ کا ذکر کر کے ختم کرتا ہوں۔مخالفوں کی طاقت کو کچلنے کا آخری موقع فتح مکہ تھا۔مگر دیکھو کس محبت اور پیار کا معاملہ آپ نے ان لوگوں سے کیا۔مغربی تاریخوں میں ایک مشہور شخص ابراہیم لنکن ہوا ہے۔اس کے زمانہ میں دو گروہوں میں لڑائی ہوئی۔ایک کہتا کہ غلامی قائم رہنی چاہئے مگر دوسرا گروہ اسے ظلم قرار دے کر مٹانا چاہتا۔ابراہیم لنکن مٹانے والوں میں سے تھا۔اس کی بڑی خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب دوسرے فریق کو شکست ہوئی اور اسے فتح تو وہ سر نیچے کئے ہوئے گیا۔کہتے ہیں وہ دعا کر رہا تھا کہ فیصلہ ہو گیا۔فوجوں نے اسے کہا کہ بینڈ بجاتے ہوئے جانا چاہئے مگر اس نے کہا نہیں اس طرح دوسروں کا دل دکھے گا۔یہ اس کی خاص خوبی بیان کی جاتی ہے۔مگر وہ ایسا شخص تھا جسے ان لوگوں نے کوئی ذاتی دکھ نہ الله دیا تھا۔لیکن رسول کریم ﷺ جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو ان لوگوں کی غداری کی وجہ۔سے حملہ آور ہوئے تھے اور ان دشمنوں پر حملہ کرنے گئے تھے جنہوں نے قریباً ربع صدی تک مسلمانوں پر ظلم کئے تھے۔جنہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بے حد دکھ دیئے تھے۔مگر جب مکہ کے قریب پہنچے تو سب کمانڈروں کو جمع کیا اور فرمایا جب تم مکہ میں داخل ہو گے میں ساتھ نہ ہوں گا تم نے کسی کو مارنا نہیں۔اور جب مکہ نظر آیا اور آپ نے مخالفوں کی طرف سے لڑائی کے سامان نہ دیکھے تو سجدہ میں گر گئے۔کہا گیا ہے که لینکن دعا کرتا ہوا گیا تھا مگر اس کی اور رسول کریم ﷺ کی ایک حالت نہ تھی۔جو دکھ اہل مکہ نے آپ کو دیئے تھے ان کا لاکھواں حصہ بھی لنکن کو نہ دیا گیا تھا۔مگر آپ نے قوم کو خونریزی سے بچالیا۔مسلمانوں کے چارلشکر گئے مگر آپ کسی لشکر کے ساتھ نہ گئے بلکہ اکیلے گئے تاکہ شان نہ ظاہر ہو۔اور جا کر کعبہ میں نماز پڑھی اور اعلان کر دیا کہ جو شخص گھر میں بیٹھا رہے گا اسے معاف کیا جاتا ہے۔اس کے بعد مکہ کے لوگ آپ کے پاس