سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 199
سيرة النبي الله 199 جلد 3 آئے۔وہ مسلمان نہیں تھے بلکہ اپنے مذہب پر قائم تھے اور وہ لوگ تھے جنہوں نے 13 سال کے ہر منٹ میں آپ کو مارنے کی کوشش کی تھی۔اور اس کے بعد سات سال تک دوسو میل دور جا کر آپ کی تباہی کی کوشش کرتے رہے تھے۔ان سے پوچھا جاتا ہے بتاؤ تم سے کیا سلوک کیا جائے ؟ اگر ان کے جسموں کا قیمہ بھی کر دیا جاتا تو یہ ان کے جرموں کے مقابلہ میں کافی سزا نہ تھی۔مگر جب انہوں نے کہا ہم سے وہی سلوک کیا جائے جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 13 جاؤ تمہیں معاف کیا جاتا ہے اور کوئی گرفت نہیں کی جاتی۔یہ وہ خاتمہ ہے جو اس جنگ کا ہوا جو آپ کے قدیمی دشمنوں اور آپ کے درمیان ہوئی۔وہ لوگ جو کہتے ہیں اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا وہ سن لیں اگر کوئی شخص یہ کہلانے صلى الله کا مستحق ہے کہ اس نے تلوار کے مقابلہ میں عفو سے کام لیا تو وہ محمد ﷺ ہی ہے۔اگر عمر بھر کے ظلموں اور دکھوں کو کسی نے بخش دیا تو وہ محمد ﷺ ہی کی ذات تھی۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے مقدس وجود پر کوئی اعتراض کرنے کی بجائے اس کے مخالف بھی اس کی تقدیس کریں گے۔اب آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ آپس کا تفرقہ دور ہو اور آپس میں ایسی صلح کریں کہ ایک دوسرے کے حقوق نہ لیں بلکہ بھائی بھائی بن کر اور ایک دوسرے کے حقوق دیتے ہوئے صلح کریں۔“ 66 1: فاطر: 25 2، 3: النحل : 37 4: الاعراف: 159 5: الاخلاص : 2 تا 5 6: البقرة: 256 7: البقرة: 114 الفضل 5، 7، 8 دسمبر 1944ء)