سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 184
سيرة النبي عمال 184 جلد 3 طرح بھی تو حید کو قائم کیا ہے۔یعنی اصولی طور پر تو حید کی تعلیم دی ہے۔آپ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ تو حید کو مان لو بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح مانو۔اسی طرح آپ نے یہی نہیں فرمایا کہ شرک نہ کرو بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ کس طرح شرک نہ کرو اور کس طرح اس سے بچو۔پھر آپ نے صرف یہ نہیں کہا کہ تو حید کو مان لو بلکہ تو حید کے دلائل دے کر کہا ہے کہ اسے مانو۔اسی طرح آپ نے صرف یہی نہیں کہا کہ شرک نہ کرو بلکہ دلائل دے کر شرک کی برائی سمجھائی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں شرک کے متعلق آتا ہے۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدُ 5 - اس میں چار اقسام کا شرک پیش کر کے اس کا رد کیا گیا ہے۔فرما یا شرک چار طرح کیا جا سکتا ہے۔اول شرک احدیت کے لحاظ سے کہ خدا کی ذات ایسی کوئی اور ذات قرار دی جائے۔یہ درست نہیں کیونکہ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اللہ ایک ہی ہے، کوئی اس کا ہم پایہ نہیں۔دوم یہ کہ صفات کے لحاظ سے خدا کا شریک مقرر کیا جائے۔یہ بھی نادرست ہے کیونکہ اللهُ الصَّمَدُ صد وہ ہے جس کی مدد کے بغیر کوئی چیز قائم نہ رہ سکے۔اللہ تعالیٰ کا سہارا اس کی صفات کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خیال کرنا شرک ہے کہ کوئی اور ہستیاں بھی ہیں جن کی مدد کے بغیر کوئی چیز زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی یا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔سوم یہ کہ کوئی خیال کرے خدا ایک زمانہ میں تھا مگر پھر فوت ہو گیا اور آگے اس کی اولا د چل پڑی یہ بھی شرک ہے۔اس سے خدا تعالیٰ میں یہ نقص ماننا پڑتا ہے کہ وہ فنا ہو جاتا ہے۔یہ ازلیت کے لحاظ سے شرک ہے۔۔چہارم یہ کہ کسی کو خدا کا ہمسر مانا بھی شرک ہے۔یعنی یہ کہ کسی دوسرے کو خدا نے اپنی طاقتیں دے دیں اور وہ اس طرح خدا کے برابر ہو گیا۔یہ بھی شرک ہے۔یہ چار اقسام شرک کی ہیں۔دنیا کے سارے شرک ان کے اندر آ جاتے ہیں۔