سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 185
سيرة النبي عمال 185 جلد 3 ج۔پھر توحید کے متعلق فرمایا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سَنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَئُ مِّنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ عَلى عَظِيمُ ) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ وہ اپنی ذات میں زندہ ہے اور دوسروں کو زندہ رکھتا ہے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ پھر اس کے کاموں میں وقفہ نہیں پڑتا۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے کاموں میں وقفہ پڑ جاتا ہے تو وہ بھی شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔کیونکہ وقفہ ماننے کا یہ مطلب ہوا کہ اگر خدا کا تعلق دنیا سے نہ رہے تو بھی دنیا اپنے آپ چل سکتی ہے۔تو فرمایا لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ کہ اسے نیند یا اونگھ کبھی نہیں آئی۔لَهُ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ہر ایک چیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔انسان کو چاہیئے ہر چیز کے متعلق یہی سمجھے کہ اس کا اصل مالک خدا ہی ہے اور کسی کا اختیار اس پر نہیں ہے۔مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ پھر یہ بھی تسلیم کرے کہ بے شک دعائیں قبول کرنے کا سلسلہ خدا تعالیٰ نے جاری رکھا ہے مگر یہ خیال نہ کرے کہ کوئی خدا سے کوئی بات زور سے منوا سکتا ہے۔خدا خود کسی امر کے متعلق اجازت دے کہ لواب مانگو تو انسان مانگ سکتا ہے ورنہ نہیں۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وہ جانتا ہے جو ہو چکا یا جو ہوگا۔تو حید کے لئے علم کامل ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ علم کامل کے بغیر تصرف کامل نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالیٰ کے متعلق علم کامل کا ماننا ضروری ہے۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ اور کوئی انسان خدا کے دیئے ہوئے علم کے بغیر کچھ نہیں حاصل کر سکتا۔پس انسان سمجھے جو کچھ اسے حاصل ہونا ہے خدا ہی سے حاصل ہوتا ہے۔آگے فرمایا وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ اس کی کرسی ساری زمین اور آسمانوں پر چھا گئی۔کرسی وہ مقام ہوتا ہے جہاں بیٹھ کر کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔مطلب یہ کہ ہر ذرہ جو حرکت کرتا