سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 183

سيرة النبي عليه 183 جلد 3 ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ سب کے لئے ایک ہی قانون جاری ہے۔اور یہ بغیر ایک خدا کے ہو نہیں سکتا۔اگر دنیا کی تمام اشیاء کے لئے ایک ہی ہستی قانون جاری کرنے والی نہیں تو پھر سائنس باطل ہے۔اب پانی میں بجھانے اور آگ میں جلانے کی خاصیت ہے۔اگر آگ پیدا کرنے والا خدا اور ہو اور پانی پیدا کرنے والا اور ، اور وہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیزوں کی خاصیتیں بدل دیں تو کیا کام چل سکتا ہے؟ مثلاً ایک خدا نے مگنیشیا اس لئے بنایا کہ جلاب لگائے اور دوسرے خدا نے معدہ ایسا بنایا کہ مگنیشیا کے اثر کو قبول کر لے۔لیکن اگر وہ معدہ کی اس خاصیت کو بدل دے تو پھر خواہ کوئی کتنا مکنیشیا پیٹے جلاب ہی نہ لگیں گے۔غرض بغیر تو حید ماننے کے سائنس چل ہی نہیں سکتی اور نہ کوئی دنیا میں ترقی ہو سکتی ہے۔دوم: بغیر تو حید کے علم کی تحقیق کی جرات بھی کسی کو نہیں ہو سکتی۔کیونکہ اگر یہ سمجھا جائے کہ اور چیزوں میں بھی خدائی طاقتیں ہیں تو ان کی تحقیقات کرنے کی کیونکر جرات کی جائے گی۔مثلاً جو شخص کسی چیز کے متعلق یہ سمجھے کہ وہ بھی رب ہے، اسے چیر نے پھاڑنے کے لئے کس طرح تیار ہو سکے گا۔لیکن جب یہ عقیدہ ہو کہ ایک ہی خدا ہے جس نے باقی سب چیزیں انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں تو پھر انسان ان اشیاء کی تحقیقات کریں گے اور اس طرح علوم میں ترقی ہو گی۔چنانچہ رسول کریم ﷺے کے توحید پر زور دینے کے بعد علوم میں اس قدر ترقی ہوئی جس کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں ملتی۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ سے لے کر 1300 سال کے اندر اندر علوم نے اس قدر ترقی کی ہے کہ جو پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔یہ تو حید کی وجہ سے ہی علوم نے ترقی کی۔جب لوگوں نے یہ سمجھا کہ تمام چیزوں کا ایک ہی خدا ہے اور اس نے سب چیزیں انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں تو اس سے علوم میں ترقی کرنے کے دروازے کھل گئے۔ہر چیز کے متعلق تحقیقات شروع ہو گئی۔ان پہلوؤں کے علاوہ جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے رسول کریم ﷺ نے اور