سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 174
سيرة النبي علي 174 جلد 3 یز کئے گئے ہیں اور وہ یہ کہ :۔(1) توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور اس پر زور۔(2) غیر مذاہب کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور تعامل۔گو دوسرے مقامات پر یہی طریق رکھا گیا ہے کہ مختلف مضامین پر مختلف لوگ اظہار خیالات کریں لیکن اس مقام ( قادیان) کے مخصوص حالات کی وجہ سے پچھلے سال بھی یہی طریق تھا کہ تینوں مضامین پر میں نے ہی اظہار خیالات کیا تھا اور اب بھی یہی ارادہ ہے کہ اِنشَاءَ اللهُ دونوں مضامین پر میں ہی بولوں گا۔مجھے افسوس ہے کہ اس تقریب کی اہمیت کے لحاظ سے جتنا لمبا کلام اور جس طرز کا کلام ہونا چاہئے تھا بوجہ بیماری اور کھانسی میں اتنا لمبا بیان نہیں کر سکوں گا اس لئے مجبوراً اختصار کے ساتھ اہم پہلو لے کر اظہار خیالات کروں گا۔میں سب سے پہلے توحید کی اہمیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔لوگوں میں یہ غلط خیال پھیلا ہوا ہے کہ توحید کے متعلق مختلف مذاہب میں اصولی اختلاف پایا جاتا ہے۔مسلمان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کئی مذاہب ایسے ہیں جو توحید کے قائل نہیں مگر یہ درست نہیں ہے۔یہ اور بات ہے کہ توحید کی تفصیل اور تشریح میں اختلاف ہو مگر اصولی طور پر تمام مذاہب کے لوگ توحید کے قائل ہیں۔حتیٰ کہ جن مذاہب کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ تو حید کے خلاف ہیں وہ بھی دراصل توحید کے قائل ہیں۔میں نے ہندوؤں ، سکھوں ، یہودیوں، زرتشتیوں، عیسائیوں، بدھوں کی کتب کا مطالعہ کیا ہے اور اسلام تو ہے ہی اپنا مذہب اس کا مطالعہ سب سے زیادہ کیا ہے۔ان سب کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ساری اقوام اور تمام مذا ہب توحید کے لفظ پر جمع ہیں اور سب کے سب اس کے قائل ہیں۔عام م خیال کرتے ہیں کہ عیسائی تو حید کے قائل نہیں مگر میں نے عیسائیوں کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ مسلمان توحید کے قائل نہیں توحید کے اصل قائل ہم (عیسائی) ہیں۔سلمان