سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 173
سيرة النبي علي 173 جلد 3 ہوگی اور بہت زیادہ اخلاص اور محبت سے ہوگی۔مجھے اس بات سے نہایت خوشی ہے کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ جلسے ہو رہے ہیں۔پچھلے سال ہندوستان کے مختلف مقامات کے لوگوں نے پانچ سو جلسے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔مگر اس سال 1900 سے زیادہ جلسوں کے وعدے آچکے ہیں۔پچھلے سال ایک ہزار کے قریب جلسے ہوئے تھے۔اس سے اندازہ لگا کر کہا جا سکتا ہے کہ اس سال چار پانچ ہزار جگہ لوگ اس مبارک تقریب پر جمع ہوں گے۔انسانی آنکھ دور تک نہیں دیکھ سکتی اور میری آنکھ بھی اس نظارہ کو نہیں دیکھ سکتی جو سارے ہندوستان بلکہ دوسرے ممالک میں بھی آج رونما ہے۔لیکن خدا نے جو روحانی آنکھ پیدا کی ہے اس سے میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں اس سے دل خوشی سے بھرتا جا رہا ہے اور نظر آ رہا ہے کہ یہی جلسے ایک دن فتنہ و فساد کو مٹا کر امن و اتحاد کی صحیح بنیاد قائم کر دیں گے۔اس سال نہ صرف یہ کہ جلسے گزشتہ سال کی نسبت زیادہ منعقد ہوں گے بلکہ پہلے سے زیادہ مقتدر اور معزز لوگوں نے ان میں حصہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔کل ہی کلکتہ سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ مسٹرسین گپتا نے جو کلکتہ کے نہایت معزز آدمی ہیں شمولیت کا وعدہ کیا ہے اور بڑے بڑے لوگوں نے اشتہار میں اپنے نام لکھائے ہیں۔بہت سی اعلیٰ طبقہ کی خواتین نے بھی جلسہ میں شریک ہونے کا اشتیاق ظاہر کیا ہے۔پچھلے سال تو بنگال کی ایک مشہور خاتون نے جوایم۔اے ہیں اس بات پر اظہار افسوس کیا تھا کہ ہمارے طبقہ کو ان جلسوں میں زیادہ حصہ لینے کا موقع کیوں نہ دیا گیا۔اسی طرح اور مقامات کے معززین کے متعلق بھی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں کہ انہوں نے جلسہ کے اعلانات میں اپنے نام لکھائے ،شمولیت جلسہ کے وعدے کئے اور ہر طرح جلسہ کو کامیاب بنانے میں امداد دی۔اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں جو اس سال کے جلسوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔پچھلے سال رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تین پہلوؤں کو لیا گیا تھا اور میں نے بھی ان پر اظہار خیالات کیا تھا۔اس سال ان کے علاوہ دو اور پہلو