سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 175

سيرة النبي متر 175 جلد 3 اسی طرح میں نے ہندوؤں کی کتب میں پڑھا ہے کہ وہ اپنے آپ کو تو حید کے قائل اور دوسروں کو اس کے خلاف بتاتے ہیں۔یہی حال دوسرے مذاہب کا ہے۔اس سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ لفظ تو حید کے سب قائل ہیں۔باقی تشریحات میں اختلاف ہے۔اور جب کوئی قوم خود اقرار کرتی ہو کہ وہ توحید کی قائل ہے تو پھر اس کے متعلق یہ کہنا کہ قائل نہیں درست نہیں ہو سکتا اور سب اقوام اور سب مذاہب کے لوگوں کا توحید کا قائل ہونا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ مسئلہ باقی دنیا کی نظر میں بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ اپنی ایک ہی غرض پیش کرتے ہیں۔اور وہ یہ کہ بندوں کا خدا سے تعلق پیدا کرنا۔خواہ اس ہستی کا نام خدا ر کھ لیا جائے یا گاڈ (God) یا پرمیشور یا ایز داس سے بندہ کا تعلق پیدا کرنا مذہب کی غرض ہے۔اب صاف بات ہے کہ اگر کوئی مذہب تو حید پر قائم نہ ہو تو یقیناً وہ اپنے پیرؤوں کو اور طرف لے جائے گا اور اس کا پیرو اس مقصد کے حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا جو مذہب کا ہے۔جب تک ایک نقطہ نہ ہو جس پر پہنچنا مقصود ہو اُس وقت تک تمام کوششیں بے کار جاتی ہیں اور ساری اقوام اس پر متفق ہیں کہ ایک ہی نقطہ ہے جس تک سب کو پہنچنا ہے۔بعض قو میں گو بتوں کو پوجتی ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتی ہیں کہ ہم بتوں کی اس لئے پوجا کرتی ہیں کہ وہ خدا تک ہمیں پہنچا دیں۔غرض ہر مذہب والا اپنے مذہب کی غرض خدا تک پہنچنا قرار دیتا ہے اور اگر کوئی خدا تک نہ پہنچے تو ہر مذہب والا سمجھے گا کہ وہ اصل مقصد کے پانے سے محروم رہ گیا۔اس کے دوسرے لفظوں میں یہی معنی ہیں کہ جسے تو حید کا راز معلوم نہ ہوا وہ محروم رہ گیا۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے ایسے جلسوں کی غرض مختلف اقوام میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا ہے اس لئے میں ایسے رنگ میں اپنا مضمون بیان کروں گا کہ کسی پر حملہ نہ ہو بلکہ ہمارا مذ ہب جو کچھ بتاتا ہے اسے پیش کیا جائے۔ہمارا عقیدہ اور مذہب ہے کہ دنیا میں جس قدر مذاہب ہیں وہ سب کے سب خدا کی طرف سے قائم کئے گئے ہیں۔