سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 172

سيرة النبي عمال 172 جلد 3۔۔پیدا کر دیئے تو ہماری جماعت کے لوگ ان جلسوں میں شامل نہ ہوں۔ہماری جماعت کے لوگ بڑی فراخ دلی اور پورے وسعت حوصلہ اور بڑے شوق سے ان میں شامل ہوں گے۔میں نے گزشتہ سال کے جلسہ پر جو تقریر کی اس میں مثال کے طور پر بیان کیا تھا کہ جب میں شملہ گیا تو وہاں ایک جلسہ برہمو سماج کا ہوا جس میں شمولیت کے لئے مسٹر نائیڈو نے مجھے بھی دعوت دی اور میں اس میں شامل ہوا۔مجھے تقریر کے لئے بھی کہا گیا لیکن چونکہ تمام کے تمام حاضرین انگریزی سمجھنے والے تھے اور بہت قليل التعداد ایسے لوگوں کی تھی جوار دو سمجھ سکتے تھے اور مجھے انگریزی میں تقریر کرنے کا ملکہ نہ تھا اس مجبوری کی وجہ سے میں تقریر نہ کر سکا ورنہ میں نے کہہ دیا تھا کہ تقریر کروں گا۔چونکہ ابھی تک اس قسم کے جلسوں کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا اس لئے پوری طرح ان پر عمل نہیں شروع ہوا۔لیکن جب بھی ایسے جلسے کئے گئے اور حضرت کرشن ، حضرت رامچندر یا اور بزرگوں کے حالات بیان کئے گئے ، انہوں نے دنیا میں جو اصلاحیں کی ہیں وہ پیش کی گئیں، انہوں نے خود تکلیفیں اٹھا کر دوسروں کو جو آرام پہنچایا ان کے لئے جلسے کئے گئے تو کوئی احمدی نہ ہوگا جو شوق اور محبت سے ان میں شامل نہ ہوگا۔لیکن یہ ضروری ہے کہ انبیاء کا ذکر انبیاء کے طور پر کیا جائے اور قومی مصلحین کا ذکر اسی رنگ میں ہوگا نہ کہ انبیاء کے رنگ میں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر قوم کی طرف سے اپنے مذہبی بزرگوں کے متعلق اس قسم کے جلسے ہوں تو وہ بھی یقیناً ہمارے ان جلسوں کو بہت پُر لطف اور بہت دلچسپ بنا دیں گے کیونکہ اس طرح آپس میں بہت زیادہ تعاون کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور جس قدر محنت اور کوشش ہمیں اب ان جلسوں کے انعقاد کے متعلق کرنی پڑتی ہے اُس وقت اتنی نہ کرنی پڑے گی۔جب دیگر مذاہب کے لوگ دیکھیں گے کہ ان کے جلسوں میں ہر جگہ ہماری جماعت کے لوگ شامل ہوتے ہیں، محبت اور شوق سے ان کے بزرگوں کی یاد تازہ کرتے ہیں، کھلے دل سے ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں تو یقیناً ہمارے جلسوں میں ان کی شمولیت پہلے سے بہت زیادہ