سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 171

سيرة النبي علي 171 جلد 3 توحید باری تعالیٰ کے متعلق رسول کریم ﷺ کی تعلیم حضرت مصلح موعود کی تحریک کے مطابق 2 جون 1929 ء کو سارے ہندوستان میں رسول کریم ﷺ کی سیرت کے حوالہ سے جلسے ہوئے جن میں غیر مسلم اصحاب نے بھی تقاریر کیں۔حضرت مصلح موعود نے اس پروگرام کے مطابق قادیان کے ایک بڑے جلسہ میں تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل تقریر فرمائی:۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں پھر دوبارہ اس تحریک پر عمل کرنے کی توفیق عطا کی جو میں سمجھتا ہوں آہستہ آہستہ ملک کے امن اور اس میں صلح کے قیام کا موجب ہوگی۔میں نے پچھلے سال اس مہینہ میں گو اسی تاریخ تو نہیں اسی موقع پر ان جلسوں کی غرض بیان کی تھی جو کہ ایک ہی دن میں سارے ہندوستان میں اور ہندوستان کے باہر بھی اس غرض سے منعقد کئے گئے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے مبارک حالات بیان کئے جائیں۔میں نے بتایا تھا کہ اس قسم کے جلسے علاوہ اس کے کہ ان کے ذریعہ ایک عظیم الشان تاریخی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے مختلف قوموں میں صلح اور آشتی کا موجب ہوں گے۔اس سال بعض ہندو لیڈروں کی طرف سے سوال کیا گیا کہ آیا ان کے بزرگوں کے حالات بیان کرنے کے لئے جلسے کئے جائیں تو ہماری جماعت ان جلسوں میں اسی رنگ میں شریک ہوگی جس طرح وہ شریک ہو رہے ہیں؟ میں نے اس کے جواب میں یہی کہا کہ ان جلسوں کی غرض جب یہ بھی ہے کہ مختلف اقوام میں اتحاد اور رابطہ پیدا کیا جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ جب دوسری اقوام ان بزرگوں کے حالات بیان کرنے کے لئے جلسے کریں جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان