سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 158

سيرة النبي علي 158 جلد 3 خواہش ظاہر کی۔مرد تو مرد رہے آپ عورتوں کو بھی ورزش کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔چنانچہ کئی دفعہ آپ اپنی بیویوں کے ساتھ مقابلہ پر دوڑے اور اس طرح عملاً عورتوں اور مردوں کو ورزش جسمانی کی تحریک کی۔ہاں آپ اس امر کا خیال ضرور رکھتے تھے کہ انسان کھیل ہی کی طرف راغب نہ ہو جائے اور اس امر کی تعلیم دیتے تھے کہ ورزش مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہونا چاہئے نہ کہ خود مقصد۔غرض انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں رسول کریم دنیا کے لئے اسوہ حسنہ نے ایک اعلیٰ نمونہ دکھا کر اور بے نظیر مثال قائم کر کے اس امر کو ثابت کر دیا کہ آپ کی زندگی دنیا کے لئے ایک اسوہ حسنہ تھی کیونکہ اگر آپ صرف خدا تعالیٰ کی عبادت یا اعلیٰ فلسفیانہ تعلیمات کی اشاعت کی طرف متوجہ ہوتے تو ہر اک سمجھ دار انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غیر معمولی دل و دماغ کے انسان تھے اور ان جذبات سے عاری تھے جو عام انسان کے دل میں موجزن رہتے ہیں اور اس وجہ سے باوجود اپنے اعلیٰ تقویٰ کے وہ بنی نوع انسان کے لئے نمونہ نہیں بن سکتے لیکن آپ کی ساری زندگی اس شبہ کا ازالہ کرتی ہے۔آپ ہماری ہی طرح کے جذبات رکھتے تھے اور ہماری ہی طرح کی ذمہ داریاں۔اور پھر آپ ان ذمہ داریوں سے بزدلانہ طور پر آنکھیں نہیں بند کر لیتے تھے بلکہ آپ ان ذمہ داریوں کی اہمیت کو محسوس کرتے تھے اور ان کے ادا کرنے کو اپنا مذہبی فرض سمجھتے تھے اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھاتے تھے کہ ہر اک انسان محسوس کرتا تھا اور کرتا ہے اور کرتا رہے گا کہ اس نمونہ کی تقلید سے وہ کسی عذر اور بہانے سے بچ نہیں سکتا۔یہاں ایک ایسا شخص ہے جو اسی کی طرح کے جذبات اور اسی کی طرح کے احساسات لے کر پیدا ہوا ہے اور اپنے جذبات اور احساسات کو کچلتا نہیں بلکہ انہیں ایک بہادر آدمی کی طرح پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک ایسا انسان ہے جس کے راستہ میں وہ سب مشکلات ہیں جو