سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 157
سيرة النبي عمال 157 جلد 3 اللہ تعالیٰ نے رحم دل بنایا ہے۔کیا لطیف سبق ایک ہی فقرہ میں دے دیا کہ اولاد کی محبت اور ان کی تکلیف کا احساس تو انسانیت کے اعلیٰ جذبات میں سے ہے خدا کا نبی ان جذبات سے خالی کیونکر ہو سکتا ہے۔وہ دوسروں کے لئے اس میں بھی نمونہ ہے جس طرح اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں نمونہ ہے۔اولاد کی تکریم آپ کی اولاد میں سے آخر عمر میں صرف حضرت فاطمہ زندہ رہ گئی تھیں۔جب کبھی وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں آپ کھڑے ہو جاتے ، بوسہ دیتے اور اپنے پاس بٹھا لیتے۔آپ کی اولا د کھیلتی ہوئی پاس آ جاتی تو گود میں اٹھا لیتے ، پیار کرتے اور ان کی عمر کے مطابق نصیحت کرتے اور اخلاق کا کوئی عمدہ سبق دیتے۔غرض آپ نے اس جذبہ انسانیت میں بھی ایک اعلیٰ نمونہ ہمارے لئے قائم کیا ہے۔ہاں اولاد کی محبت کے ساتھ ساتھ آپ یہ تعلیم بھی دیتے تھے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے کہ اولاد کی محبت انسان کو اس کے ان فرائض سے غافل نہ کر دے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد ہیں اور نہ خود اولاد کی اصل ذمہ داری کو جو اعلیٰ پرورش، اعلیٰ تربیت، اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ رہنمائی پر مشتمل ہے اس کی نظروں سے اوجھل کر دے۔صحت کی درستی اور ورزش کا خیال انسانی روح اور جسم کا ایسا جوڑ ہے کہ ایک کی خرابی دوسرے پر اثر ڈالے الله بغیر نہیں رہ سکتی۔رسول کریم ﷺ نے اس امر میں بھی ہمارے لئے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے اور نیکی اور تقویٰ کو صحت کی درستی اور ورزش کا خیال رکھنے کے خلاف نہیں قرار دیا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ آپ اکثر شہر سے باہر باغات میں جا کر بیٹھتے تھے۔گھوڑے کی سواری کرتے تھے۔اپنے صحابہ کو کھیلوں وغیرہ میں مشغول دیکھ کر بجائے ان پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے ان کی ہمت بڑھاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے اپنے احباب کو تیر اندازی کا مقابلہ کرتے دیکھا تو خود بھی اس مقابلہ میں شامل ہونے کی