سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 159
سيرة النبي عمال 159 جلد 3 دوسرے انسانوں کے راستہ میں حائل ہوتی ہیں اور وہ ان سب مشکلات کو دور کرتا ہوا اپنا بوجھ خود اٹھائے ہوئے تقویٰ اور طہارت کے اس پل پر سے جو بال سے بھی زیادہ باریک ہے نڈر اور بے خوف گزر جاتا ہے اور ایک آنچ ہاں ایک خفیف سی آنچ بھی اسے نہیں آتی۔ایک لمحہ کے لئے بھی اس کا قدم نہیں لڑکھڑاتا۔پس جب وہ انسان، ہمارے جیسا انسان، اس کام کو جسے لوگ ناممکن خیال کرتے تھے اور کرتے ہیں اس خوبی سے سرانجام دے سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کا م کو نہ کرسکیں۔رسول کریم ﷺ کی انسانیت صلى الله خدا تعالیٰ کس لطیف پیرایہ میں محمد رسول اللہ کی انسانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے کی طرف کلام الہی میں اشارہ جب وہ فرماتا ہے کہ آكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ انْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ 5 کیا لوگوں کو اس پر تعجب آتا ہے کہ ہم نے انہی میں سے پر یہ کہتے ہوئے وحی نازل کی کہ لوگوں کو ہوشیار کر اور ان لوگوں کو جو مان لیں خوشخبری دے کہ ان کے رب کے حضور میں انہیں ایک ہمیشہ قائم رہنے والا درجہ حاصل ہے۔محمد رسول اللہ ہم میں سے ایک انسان ہے اسی لئے اس کے نقش قدم پر چلنے میں ہمیں کوئی عذر نہیں ہوسکتا۔جو امر اس کے لئے ممکن ہے وہ دوسرے انسانوں کے لئے بھی ممکن ہے۔وہ ایسا نبی نہیں جو انسانیت کو نظر انداز کر کے اپنے مقام کو حاصل کرتا ہے بلکہ ایسا نبی ہے جو انسانیت کو کامل کرتے ہوئے اور اس کے دروازہ میں سے گزرتے ہوئے نبی بنتا ہے۔اس کا ایک ہاتھ خدا کی طرف ہے جو اس کا پیدا کرنے والا اور اسے ترقیات عطا فرمانے والا ہے اور وہ اس کی برکتوں اور اس کے فضلوں کو مانگتا ہے اور دوسرا ہاتھ اپنے ہم جنسوں اور بھائیوں کی طرف ہے جنہیں وہ ہمت کرنے اور اپنے پیچھے پیچھے چلے آنے اور خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کا وعدہ دے رہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ وہ گان