سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 156
سيرة النبي علي 156 جلد 3 بقائے نسل کا جذبہ انسانی فطرت بقائے نسل کے جذبہ سے نہایت ہی گہرے طور پر رنگین ہے۔جو نہی ایک عورت کامل جوان ہوتی ہے اولاد کی خواہش خواہ الفاظ میں پیدا نہ ہو مگر تاثیرات کے ذریعہ سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔صحیح القومی مرد خواہ کسی قدر ہی آزاد کیوں نہ ہوا اپنی علیحدگی کی گھڑیوں میں اس کی طرف ایک زبر دست رغبت پاتا ہے مگر باوجود اس کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ خدا رسیدوں کو اولاد سے کیا تعلق۔وہ نہیں سمجھتے کہ اگر اولا د سے ان کو تعلق نہیں تو اولاد کی تربیت جو نسل انسانی کا ایک اہم ترین فرض ہے اس میں دنیا کا رہنما کون ہے۔رسول کریم اللہ کے اولاد ہوئی اور آپ نے اس اولاد پر فخر کیا۔اس کی محبت کو چھپایا نہیں اسے خدا کی ایک رحمت قرار دیا۔اولاد سے بے تعلقی کا اظہار نہیں کیا اس کی طرف توجہ کی اور اس کی تربیت کا خیال رکھا۔اس سے بے اعتنائی نہیں ظاہر کی بلکہ اس سے محبت کرنے کو خدا تعالیٰ کے مقدس فرائض میں سے قرار دیا۔جب وہ ناسمجھ تھی اس کی پرورش کی ، جب وہ چھوٹی تھی اس کی تربیت کی ، جب وہ بڑی ہوئی اسے تعلیم دلائی اور جب وہ اپنے گھر بار کی مالک ہوئی اس کا ادب کیا اور اپنی محبت کا مقر اسے بنایا۔ایک دفعہ آپ کا ایک نواسہ بیمار ہوا اس کے دیکھنے کیلئے آپ کی صاحبزادی نے آپ کو بلایا اس کی حالت اُس وقت سخت تکلیف کی تھی اور زندگی کی آخری گھڑیوں کو نہایت اضطراب اور دکھ کے ساتھ وہ طے کر رہا تھا۔آپ نے اسے ہاتھوں میں لیا اور اس کے اضطراب کو دیکھا، آنکھیں فرط محبت اور وفور رحمت سے پرنم ہو گئیں۔ایک شخص جو اس حقیقت سے ناواقف تھا کہ نبی کے لئے یہی ضروری نہیں کہ ہمیں خدا کی با تیں سکھائے بلکہ اس کا یہ بھی کام ہے کہ وہ ہمارے لئے کامل نمونہ ہوانسانیت کا مکمل نقشہ ہو بشریت کا ، اس امر کو دیکھ کر حیران ہو گیا اور بے اختیار ہو کر بولا یا رسول اللہ ! آپ تو ہمیں صبر کا سبق دیتے ہیں اور آج خود آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔آپ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا تمہارا دل شاید رحم سے خالی ہوگا مجھے تو