سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 155

سيرة النبي علي 155 جلد 3 خدا تعالیٰ نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت بنائی ہے اسی طرح بیوی کی دعا کو بھی اپنے قرب کا ذریعہ بنایا ہے پس اس کے دل کو خوش کر و خدا تعالیٰ تم سے خوش ہو گا۔بیویوں کے احساسات کا خیال رکھو آپ عملا اس حکم پر عمل کرتے ، اپنی بیویوں کے سب احساسات کا خیال رکھتے ، گھر کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتے ،ان سے پیار کرتے ، ان کی دلد ہی کے لئے باریک در بار یک راہیں تلاش کرتے۔ایک بیوی نے ایک گلاس سے پانی پیا تو اسی جگہ پر منہ رکھ کر خود پانی پی لیا۔ایک بیوی کو جو یہود میں سے تھی دوسری نے غصہ میں یہودن کہہ دیا تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں کہتیں کہ میں یہو دن نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے نبیوں کی اولاد ہوں۔اگر کوئی بیمار ہوتی تو آپ اس کی بیماری کو اپنی بیماری سمجھتے اور اس سے بھی زیادہ اس کے درد کو محسوس کرتے ، ان کے جذبات کا خیال رکھتے اور انہیں اپنے عزیزوں سے جدا نہ کرتے بلکہ تعلق بڑھانے میں مدد کرتے۔اپنی ایک بیوی ام حبیبہ کے گھر میں آپ داخل ہوئے وہ اپنے بھائی معاویہؓ کو جو بعد میں بادشاہ اسلام ہوئے پیار کر رہی تھیں۔آپ نے اس امر کو نا پسند نہیں فرمایا بلکہ محبت کی نگاہوں سے دیکھا اور بہن بھائی کی محبت کو طبعی تقاضوں کا ایک خوبصورت جلوہ تصور فرماتے ہوئے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا ام حبیبہ! کیا معاویہ تمہیں پیارا ہے؟ ام حبیبہ نے جواب دیا ہاں۔فرمایا اگر یہ تمہیں پیارا ہے تو مجھے بھی پیارا ہے۔بیوی کا دل اس جواب کوسن کر کس قدر خوشی سے اچھلا ہوگا کہ میرے رشتہ داروں کو یہ غیریت کی نگاہ سے نہیں بلکہ میری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مجھ سے اس قدر محبت رکھتے ہیں کہ جو مجھے جس قدر پیارا ہو اسی قدر ان کو بھی پیارا ہوتا ہے گویا وہی نظارہ ہے کہ:۔ه من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی مگر باوجود انسانیت کے اس کامل اور اتم نظارہ کے محمد علی کو کلی طور پر اور سر سے پا تک اپنے خدا کے تھے۔اور اپنی بیویوں کو بھی اسی کا اور خالص اسی کا بنانا چاہتے تھے۔