سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 152

سيرة النبي عمال 152 جلد 3 کرنے دو (3) ہنسی اور مذاق میں جھوٹ نہ ہو بلکہ صداقت کا پہلو محفوظ ہوتا ادنی طبعی جذبات کے ظہور کے وقت اعلیٰ طبعی جذبات کا خون نہ ہوتا چلا جائے۔صفائی پسندی انسانی تقاضوں میں سے ایک تقاضا صفائی پسندی کا ہے۔جسم کو صاف رکھنا ، منہ کو صاف رکھنا، کپڑوں کو صاف رکھنا اور ایسی اشیاء۔کا استعمال کرنا جو ناک کی قوت کو صدمہ نہ پہنچانے والی ہوں بلکہ اس کے لئے موجب راحت ہوں اس تقاضا کو بھی لوگوں نے غلطی سے تقویٰ اور نیکی کی اعلیٰ راہوں پر چلنے والوں کے طریق کے خلاف سمجھا ہے اور ایک ایسی راہ اختیار کر لی ہے کہ یا تو خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ طبیب اشیاء فضول جائیں یا خدا کے بندے جو ان طیب اشیاء کو استعمال کریں گنہ گار ٹھہریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بناوٹی نیکی اور جھوٹے تقویٰ کی چادر کو بھی چاک کر دیا اور حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور پاک رہنے کو پسند کرتا ہے۔آپ جہاں رہتے اکثر غسل فرماتے۔کئی امور کے ساتھ غسل کو آپ نے واجب قرار دے دیا۔چونکہ انسان اپنے گھر کے اشغال کی وجہ سے صفائی میں سستی کر بیٹھتا ہے اس لئے آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے میاں بیوی کے تعلقات کے ساتھ غسل کو واجب قرار دیا۔پانچوں نمازوں سے پہلے آپ ان اعضا کو دھوتے جو عام طور پر گردو غبار کا محل بنتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس امر پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیتے۔کپڑوں کی صفائی کو آپ پسند فرماتے۔جمعہ کے دن دھلے ہوئے کپڑے پہن کر آنے کا حکم دیتے اور خوشبو کو خود بھی پسند فرماتے اور اجتماع کے مواقع کے لئے خوشبو کا لگانا پسند فرماتے۔جہاں اجتماع ہونا ہو چونکہ مختلف قسم کے لوگ جمع ہوتے ہیں متعدی بیماریوں کے اثرات کے پھیلنے کا خطرہ ہوتا آپ وہاں خوشبودار مصالحہ جات اور ان جگہوں کو صاف رکھنے کا حکم دیتے۔بد بودار اشیاء سے پر ہیز فرماتے اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے کہ بد بودار اشیاء کھا کر اجتماع کی جگہوں میں آئیں۔غرض جسم کی صفائی ، لباس کی پاکیزگی اور ناک کے احساس کا