سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 153
سيرة النبي عليه 153 جلد 3 آپ پورا خیال رکھتے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیتے۔ہاں یہ ضرور فرماتے کہ جسم کی صفائی میں اس قدر منہمک نہ ہو جاؤ کہ روح کی صفائی کا خیال ہی نہ رہے اور لباس کی پاکیزگی کا اس قدر خیال نہ رکھو کہ ملک وملت کی خدمت سے محروم ہو جاؤ اور غریب لوگوں کی صحبت سے احتراز کرنے لگو اور کھانے میں اس قدر احتیاط نہ کرو که ضروری غذا ئیں ترک ہو جائیں۔ہاں یہ خیال رکھو کہ اہل مجلس کو تکلیف نہ ہو تا کہ اچھے شہری بنو اور لوگ تمہاری صحبت کو ناگوار نہ سمجھیں بلکہ اسے پسند کریں اور اس کی جستجو کریں۔لوگوں نے کہا کہ صفائی اور خوشبو سے بچو کہ وہ جسم کو پاک مگر دل کو نا پاک کرتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ حُبّبَ إِلَيَّ۔۔۔۔اَلطَّيِّبُ 1 اور إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ 2 مجھے خوشبو کی محبت بخشی گئی اور یہ کہ خدا تعالیٰ ظاہری اور باطنی صفائی رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے۔مرد و عورت کا تعلق عورت و مرد کا تعلق بھی ایک ایسا طبعی تقاضا ہے کہ دنیا کا تمدن اس پر مبنی ہے اور وہ گویا دنیا کی ترقی کے لئے بمنزلہ ہے بنیاد کے ہے مگر عجیب بات ہے کہ دنیا کے ایک کثیر حصہ نے اسے بھی روحانیات کے خلاف سمجھ رکھا ہے۔وہ عورت جو نسل انسانی کے چلانے کی ذمہ وار ہے، جس کے بغیر انسان ایک کٹا ہوا جسم معلوم ہوتا ہے جو کسی کام کا نہیں ، جو مرد کے لئے بطور لباس کے ہے اور جس کے لئے مرد بطور لباس کے ہے اس عورت کو ہاں اس عورت کو ایک نا پاک شے قرار دیا جاتا تھا اور خدا رسیدہ انسان کے لئے جائے اجتناب سمجھا جاتا تھا اور اس طرح گویا پاکیزگی کو انسانیت کے مخالف قرار دے کر خود پاکیزگی کے درخت پر ہی تبر رکھا جاتا تھا۔کیا یہ سچ نہیں کہ انسان ہی حقیقی پاکیزگی کا برتن ہے اور برتن کے بغیر الله لطیف اشیاء محفوظ رہ ہی نہیں سکتیں۔رسول کریم ﷺ نے خدا کو پا کر انسان کو نہیں بھلایا۔آپ نے شادیاں کیں اور اپنے ملک کے فائدہ اور مسلمانوں کے فائدہ اور بعض دفعہ خود بیویوں کے فائدہ کے لئے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اور نہ صرف