سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 151
سيرة النبي علي 151 جلد 3 خوش طبعی انسانی تقاضوں میں سے ایک تقاضا خوش طبعی بھی ہے۔جنسی انسان کے طبعی جذبات میں سے ہے۔ایک اچھا انسان جو اپنے ہم جنسوں کیلئے و بال جان نہ بننا چاہتا ہو اس کے لئے خوش مذاق ہونا بھی شرط ہے۔لیکن دنیا کو یہ ایک وہم ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ ہو اس کے لئے نہایت سنجیدہ مزاج اور خاموش رہنے والا ہونا ضروری ہے۔مسکراہٹ اس کے درجہ کو گراتی ہے اور ہنسی اس کے تقویٰ کو برباد کر دیتی ہے لیکن انسانیت پر غور کرنے والا انسان جانتا ہے کہ ہنسی اور خوش طبعی کو انسانی تمدن سے خارج کر کے وہ ایک ایسا ڈھانچہ رہ جاتا ہے جو تمام خوشنمائیوں سے معرا ہو۔رسول کریم ملی با وجود اپنی تمام سنجید گیوں کے اور عارضی خوشیوں سے بالا ہونے کے اور باوجود اپنے اس عظیم الشان دعوی کے جو ان کے درجہ کو معمولی انسان سے غیر محدود طور پر اونچا کر دیتا تھا اس طبعی جذ بہ کو دبانے کی کبھی کوشش نہ کرتے تھے۔آپ کے درجہ کی بلندی اور رفعت میں سے پھوٹ پھوٹ کر خوش طبعی کا انسانی جذبہ ایسے خوشنما طور پر نکل رہا تھا کہ دیکھنے والے کو حیرت ہوتی تھی۔وہ جو ایک تند اور سخت مزاج حاکم کو دیکھنے کی امید رکھتا تھا ایک خوش مذاق اور مسکراتے ہوئے چہرہ کو دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔مجلس اصحاب میں بیٹھے جہاں اعلیٰ تعلیمات کا درس دیا جاتا تھا لوگوں کی کوفت کو دور کرنے اور ملال کو کم کرنے کے لئے لطائف بھی بیان ہوتے چلے جاتے تھے۔کبھی اپنے اصحاب سے پاکیزہ نفسی بھی ہوتی جاتی تھی۔بچے آ جاتے تو ان کو بہلانے کے لئے کوئی چڑیا چڑے کا قصہ بھی بیان ہو جا تا تھا۔کبھی بچہ کو خوش کرنے کے لئے اس کے منہ پر پانی کا باریک چھینٹا دیا جاتا تو اہل خانہ کی دلجوئی کے لئے عرب کی مروجہ کہانیوں میں سے کوئی کہانی بھی سنا دی جاتی تھی مگر ہاں ان سب امور کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی جاتی تھی کہ (1) ہنسی اس رنگ میں نہ کرو کہ دوسرے کی تحقیر یا دل شکنی ہو (2) نسی کو پیشہ یا عادت نہ بناؤ اور اس غرض سے ہنسی نہ کرو کہ لوگ ہنسیں بلکہ جس وقت طبیعت خود بخود اپنے آپ کو پُر کیف رنگ میں ظاہر کرنا چاہے اسے ایسا