سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 150
سيرة النبي عليه 150 جلد 3 بدلنے کیلئے نہیں آتا بلکہ فطرت کے تقاضوں کو صحیح اور متناسب طور پر پورا کر نے کیلئے ہمیں عملی سبق دینے کے لئے آتا ہے۔پس فطرت کے تقاضوں کا کلی ترک اگر بعض دوسرے شخصوں کے لئے جائز بھی ہو سکتا ہے تو نبی کے لئے نہیں کیونکہ وہ نمونہ ہے امت کے لئے اور جس قدر تقاضوں کو وہ ترک کرتا ہے اسی قدر وہ اپنے نمونہ کو نامکمل کر دیتا ہے۔انسانوں کے لئے کامل نمونہ رسول کریم علیہ کو اس روشنی میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جس طرح کامل نبی تھے کامل انسان بھی تھے اور آپ کے اہم کاموں نے آپ کو انسانی جذبات سے غافل نہیں کر دیا تھا بلکہ ان کے ساتھ ہی ساتھ آپ انسانی تقاضوں کو بھی ایسے رنگ میں پورا کر رہے تھے کہ تمام انسانوں کے لئے ایک کامل نمونہ قائم ہو رہا تھا۔اچھا کھانا فطرت انسانی کے کمالات سے ناواقف لوگوں میں یہ عام خیال ہے کہ اچھا کھانا ایک حیوانی فعل ہے اور اعلیٰ روحانی مقامات کے منافی ہے لیکن وہ فطرت انسانی جسے خدا نے پیدا کیا ہے اس کے بالکل برخلاف ہے۔کھانوں کا انسانی اخلاق سے ایک گہرا تعلق ہے اور مختلف کھانے اپنے نباتی احساسات کو انسانی جسم میں جا کر اخلاقی میلانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کھانے میں میانہ روی کی تو بے شک تعلیم دیتے تھے لیکن عمدہ کھانے سے آپ نے کبھی نہیں روکا بلکہ جب کبھی کسی نے عمدہ کھانا دعوت میں پیش کیا آپ نے اسے استعمال فرمایا۔ہاں یہ شرط لگا دی کہ کھانے کے متعلق ان امور کو مدنظر رکھو (1) ایسی طرح کھانے کی چیزوں کو ضائع نہ کرو کہ غرباء کو تکلیف ہو (2) جس وقت ملک میں قحط ہو اور لوگ تکلیف میں ہوں غذا سادہ کر دو تا کہ تمہارے بہت سے کھانوں میں غرباء کا ایک کھانا بھی ضائع نہ ہو جائے۔(3) سوائے حقیقی ضرورت کے کھانوں کا ذخیرہ جمع نہ کرو تاغر باء اپنے حصہ سے محروم نہ رہ جائیں۔