سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 149
سيرة النبي عمر 149 جلد 3 اولاد کی محبت کا جذبہ یا مثلاً اولاد کی محبت ایک اچھا جذبہ ہے اور بقائے عالم کے زبر دست اسباب میں سے ہے لیکن اگر کسی شخص کے اندر یہی جذبہ ترقی کر جائے اور باقی جذبات کو دبا دے تو یہی ایک گناہ بن جاتا ہے اور اولا د کو بھی گناہ کا عادی بنا دیتا ہے۔غرض کسی ایک یا بعض خواص فطرت انسانی کا کمال، حقیقی کمال نہیں ہوتا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ بعض حالتوں میں وہ ایک خطرناک نقص کی صورت بن جائے۔اور نہ ایسا کمال بنی نوع انسان کے لئے نمونہ بن سکتا ہے کیونکہ نمونہ وہی بن سکتا ہے جو طبعی ترقی کا مظہر ہو۔غیر طبعی ترقی دوسرے کے لئے نمونہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس کا حاصل کرنا دوسروں کے لئے ناممکن ہوتا ہے اور نمونہ کے لئے شرط ہے کہ اس کی نقل کرنا ہماری طاقت میں ہو۔صلى الله رسول کریم ﷺ کا رتبہ بحیثیت انسان اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اس امر کے متعلق اپنی تحقیق کو پیش کرتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ بحیثیت انسان کے کیا رتبہ رکھتے تھے۔انسانی تقاضے نبوت کے منافی نہیں جو کچھ میں او پر لکھ آیا ہوں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ (1) نبوت کمالات انسانیہ کے صحیح ظہور کا نمونہ پیش کرنے کیلئے آتی ہے۔(2 ) پس کامل نبی کے لئے کامل انسان ہونا ضروری ہے۔(3 ) اگر کوئی شخص بعض خواص انسانی کو ان کی انتہائی صورت میں دکھاتا ہے تو یہ اس کے کامل انسان ہونے کی علامت نہیں بلکہ بسا اوقات یہ امر اس کے نظام عصبی کی ظاہر یا مخفی خرابی کی علامت ہوسکتا ہے۔ان امور کو سمجھ لینے کے بعد یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ انسانی تقاضوں کے پورا کرنے کو نبوت کے منافی سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔حق یہ ہے کہ نبوت ایک ذہنی کیفیت ہے اور انسانی تقاضوں کا صحیح اور متناسب طور پر پورا کرنا اس کیفیت کا عملی ظہور ہے جس کے بغیر نمونہ کامل نہیں ہوسکتا۔نبی ہماری فطرت کو