سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 144

سيرة النبي عمال۔144 وو جلد 3 دو ہزار پرچہ کا لگ جانا کوئی بڑی بات نہیں اگر سو والنٹیئر بھی ایسے ہو جائیں جن میں سے ہر ایک تہیہ کر لے کہ میں ہیں پرچے فروخت کروں گا تو بھی دو ہزار پرچے بک سکتے ہیں۔اسی طرح کلکتہ، مدراس، لکھنؤ ، دہلی اور دوسرے ایسے شہروں میں جہاں آبادی ایک لاکھ سے زائد ہو اگر کوشش کی جائے تو بہت کامیابی ہو سکتی ہے۔ان مقامات پر ہماری جماعتیں اگر چہ کم ہیں لیکن احباب جماعت اپنے دوسرے مسلم یا غیر مسلم دوستوں سے مدد لے سکتے ہیں۔پس اگر کوشش کی جائے تو دس ہزار پر چہ ان بڑے بڑے شہروں میں ہی فروخت ہوسکتا ہے۔اس طرح اگر ہر جماعت اس کے لئے کوشش کرنا اپنے لئے فرض کر لے تو میں ہزار پر چہ کا نکل جانا بھی بڑی بات نہیں لیکن اس کے لئے دلی کوشش کی ضرورت ہے۔" تو را اشنان مورا اشنان“ والی بات نہ ہونی چاہئے۔کہتے ہیں کوئی برہمن نہانے کے لئے گیا، سردی بہت شدت کی تھی اور ٹھنڈے پانی میں نہانے کی اسے جرات نہ ہوتی تھی۔راستہ میں اسے ایک دوسرا برہمن ملا جس سے اس نے پوچھا کہ تم نے ایسی سردی میں کس طرح اشنان کیا ؟ اس کے جواب میں اس نے کہا میں تو کپڑے اتار کر پانی میں داخل ہونے لگا تھا لیکن سردی سے ڈر گیا اور تو را اشنان مورا اشنان کہہ کر ایک کنکر پانی میں پھینک دیا۔اس پر دوسرے برہمن نے کہا اچھا تو پھر ” تو را اشنان سومورا اشنان۔پس اگر یہ تو را اشنان مورا اشنان والا معاملہ نہ ہو اور دوست یہ بات نہ کریں کہ اگر ایک نے کہہ دیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا تو باقی سارا کام اس کے سپرد کر کے چپ چاپ بیٹھ جائیں بلکہ ہر ایک جماعت کا ہر فرد اس کے لئے کوشش کرے جہاں سو افراد کی جماعت ہو وہاں ہزار اور جہاں دو سو ہو وہاں دو ہزار اور ہر جگہ جماعت کی تعداد کے لحاظ سے سو، پچاس، دس، پانچ ، جتنے ممکن ہوں پرچے فروخت کرنے کی کوشش کی جائے تو بہت بڑی تعداد میں اس کی اشاعت ہوسکتی ہے۔لاہور میں ہماری جماعت کے تین چار سو افراد ہیں اور عورتیں بچے ملا کر پانچ سو سے بھی زیادہ تعداد ہو جاتی