سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 143

سيرة النبي علي 143 جلد 3 ہندو ہونے کے باعث انہیں کا فر خیال کرتا ہو گا لیکن وہ ان قربانیوں سے قطعاً ناواقف ہوگا جو انہوں نے بنی نوع انسان کی خاطر کیں۔ان کی خدمات ملکی کا اسے کوئی علم نہیں اور وہ اُس عشق کی آگ سے بالکل بے خبر ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے ان کے اندر موجود تھی۔پس اگر وہ بھی ایسے جلسوں کا انتظام کر کے رام کرشن ، بدھ ، زرتشت، کنفیوشس کی لائف تاریخی طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں کتھا کے طور پر نہیں بلکہ تاریخی واقعات سے ان کی خوبیاں لوگوں کے سامنے رکھیں تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔اس موقع پر اخبار الفضل کا خاتم النبیین نمبر بھی شائع ہوتا ہے۔افسوس ہے کہ دوستوں نے اس کی توسیع اشاعت کے لئے پوری توجہ نہیں کی۔میرا خیال تھا کہ اس سال یہ پرچہ کم از کم پندرہ ہزار شائع کیا جائے لیکن اخبار والے گزشتہ سال کے تجربہ کی بنا پر اس قدر شائع کرنے کی جرات نہیں کر سکتے اس لئے ان کا ارادہ دس ہزار شائع کرنے کا ہے۔اب چونکہ وقت بہت کم ہے اور چھپائی شروع ہونے والی ہے اگر آرڈر زیادہ نہ آئے تو ممکن ہے اس سے بھی کم چھپے اور پھر دوستوں کو محروم رہنا پڑے کیونکہ دوسرا ایڈیشن شائع نہیں ہو گا۔اس لئے میں تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع کرنے کی کوشش کریں تا اگر زیادہ نہیں تو کم از کم دس ہزار ہی شائع ہو سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش تھی کہ ریویو دس ہزار چھپے۔کیا ہماری جماعت میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ اس خواہش کو سال کے ایک پرچہ کے متعلق ہی پورا کر سکے اور میں سمجھتا ہوں اگر ہم حضرت مسیح موعود کی خواہش کو اس ایک پرچہ کے متعلق ہی پورا کر دیں تو ممکن ہے خدا تعالیٰ ہماری اس قربانی کو دیکھ کر ہمیں سب کی اشاعت ہی دس ہزار کرنے کی توفیق عطا کر دے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے خیال سے اس پر چہ کی اشاعت کم از کم دس ہزار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہے کہ بڑی بڑی جماعتوں نے اس طرف توجہ نہیں کی مثلاً لا ہور میں ہزار