سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 142
سيرة النبي عمال 142 جلد 3 سے صاف طور پر ثابت ہے کہ عورت کی روح نہیں لیکن پادری کئی سو سال سے انہیں یہی بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ اسلام کے نزدیک عورت میں روح نہیں ہوتی حالانکہ قرآن میں صاف طور پر موجود ہے کہ عورت بھی ایسی ہی ثواب کی مستحق ہے جیسا مرد۔سینکڑوں عیسائی اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مسلمان محمد (ع) کا بت بنا کر اس کی پرستش کرتے ہیں اور جب اسلامی عبادت کا سوال ہوگا فوراً ان کے ذہن میں یہی عبادت آ جائے گی بلکہ میں نے بڑے بڑے مصنفوں کی کتابوں میں یہی بات لکھی دیکھی ہے اور اسی تعصب کی وجہ سے عیسائی مسلمانوں سے الگ ہیں اور ان سے نہیں ملتے۔اسی طرح اور قوموں میں بھی سخت اختلاف ہے۔ہندو، پارسیوں اور چینیوں کو گندے اور نجس سمجھتے ہیں اور وہ ہندوؤں کو۔غرضیکہ ہر قوم دوسری سے متنفر اور بدظن ہے۔ان حالات میں ایسے جلسے جن کا مقصد یہ ہو کہ مختلف بانیانِ مذاہب کی خوبیاں لوگوں کو معلوم ہوں اتحاد و اتفاق کا موجب ہوں گے اور اگر یہ تحریک دنیا میں کامیاب ہو جائے تو امن قائم ہو جائے اور تعصب دور ہو جائے۔ہم چونکہ رسول کریم ﷺ کو مانتے ہیں اس لئے ہمارا یہی کام ہے کہ آپ کی شان کے اظہار کے لئے جلسوں کا انتظام کریں لیکن اگر ہندو، حضرت کرشن ، رام اور بدھ کی لائف دنیا کے آگے پیش کرنے کے لئے جلسوں کا انتظام کریں تو ہمیں ان میں شمولیت سے انکار نہیں۔اور میں سمجھتا ہوں اگر مختلف مقامات پر ایسے جلسے منعقد ہوتے رہیں تو دنیا میں بہت جلد صلى الله امن قائم ہو جائے۔لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ جلسے محض رسول کریم ع کے لئے ہی نہیں ہم چونکہ انہیں مانتے ہیں اس لئے انہیں ہی پیش کرتے ہیں۔دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے بزرگوں کے لئے ایسا انتظام کریں ہم بھی ان میں ضرور شامل ہوں گے بشرطیکہ ان کا مقصد بھی یہی ہو جو ہم نے رکھا ہے اور کوئی سیاسی غرض ان کے مد نظر نہ ہو۔ان کے بزرگوں کے متعلق بھی بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔مثلاً اگر گاؤں کے کسی جاہل مسلمان سے پوچھو کہ کرشن اور رام کون تھے تو وہ یہی کہے گا کہ ہندو تھے اور