سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 141
سيرة النبي عمال 141 جلد 3 اندازہ ہے کہ دو ہزار جلسے انشاء اللہ ہو جائیں گے۔لیکن جو چیز حساب میں آ جائے اس پر جتنی تسلی ہو سکتی ہے اتنی اس پر نہیں ہو سکتی جو صرف اندازہ میں ہو اس لئے میں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان جلسوں کو کامیاب اور پُر رونق بنانے کے لئے پوری پوری جدوجہد کریں۔پچھلے سال بھی میں نے توجہ دلائی تھی کہ مختلف لوگوں پر یہ ثابت کیا جائے کہ یہ جلسے ملک میں بلکہ دنیا میں امن قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔دنیا میں تمام لڑائیاں مذہبی اختلاف کی بنا پر ہیں۔عیسائیت آج اگر چہ سیاست کے پیچھے چل رہی معلوم ہوتی ہے لیکن وہ بھی مذہبی اختلاف کے اثرات سے بچی ہوئی نہیں۔عیسائی آپس میں اختلاف کے باوجود مل بیٹھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ وہ نہیں مل سکتے اور اسلام سے انہیں دشمنی بدستور ہے۔یہ خیال غلط ہے کہ یورپ میں تعصب نہیں۔ان میں تعصب ہے اور ضرور ہے لیکن بات صرف یہ ہے کہ اب یورپ مہذب ہو گیا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہمارے ملک میں بعض امراض کے لئے چریت پلایا جاتا ہے جو بہت کڑوی دوائی ہے لیکن یورپ والے چریت نہیں پلاتے بلکہ اس کا ایسنس (Essence)1 دیتے ہیں۔یا جیسے کونین پر چینی چڑھا کر دے دی جاتی ہے وہ کونین تو ہوتی ہے لیکن Sugar Coated ہوتی ہے۔اس کی اصلیت کو بناوٹ سے چھپا دیا جاتا ہے یہی حال آج یورپ کا ہے۔ان میں تعصب ہے اور اس میں وہ افریقہ کے جنگلیوں یا افغانستان کے پٹھانوں سے کسی طرح بھی کم نہیں بلکہ ممکن۔اپنے بڑھے ہوئے جذبات کے باعث پہلے سے بھی زیادہ تعصب ان میں پیدا ہو گیا ہو لیکن وہ چونکہ تعلیم میں بھی بڑھ گئے ہیں اس لئے وہ اسے عام طور پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کو نین پر میٹھا چڑھا دیا جائے۔لوگ سمجھتے ہیں یہ میٹھا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ کو نین ہوتی ہے۔اس تمام تعصب کی جڑ مذہبی اختلاف ہے ہے۔پادریوں نے کتابیں لکھ کر یورپ کو اسلام سے ایسا بدظن کر رکھا ہے کہ وہ صلى الله رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ) ایک نہایت بھیانک ہستی سمجھتے ہیں۔عیسائی مذہب