سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 118

سيرة النبي علي 118 جلد 3 ہے۔مگر مشرک پرانے زمانہ کی اس بڑھیا کی طرح ہوتا ہے جسے جو شخص کوئی علاج بتائے وہی کرنے لگ جاتی ہے۔غرض مشرک ہمیشہ بصیرت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنے اعمال کی بنیاد عقل پر نہیں رکھتا اس لئے کبھی کسی طرف اور کبھی کسی طرف نکل جاتا ہے۔دیکھو وہ لوگ جو ڈلہوزی پہنچنے کا رستہ جانتے ہوں وہ تو چلتے چلتے ڈلہوزی پہنچ جائیں گے مگر جو رستہ نہیں جانتے ان میں سے کوئی کہیں نکل جائے گا اور کوئی کہیں۔پس عقل کے ماتحت جو کام کرتے ہیں وہ ایک ہی نتیجہ پر پہنچتے ہیں اور جو یونہی چلتے ہیں ان میں سے بھی کوئی پہنچ سکتا ہے مگر زیادہ ضائع ہی ہو جاتے ہیں۔صلى الله رسول کریم علیہ نے اس آیت میں دو دعوے کئے۔ایک یہ کہ اَدْعُوا إِلَى اللهِ اور دوسرا یہ کہ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي - اس سے بہتر دعوے نہیں ہو سکتے اور نہ کسی نے آپ کے سوا کئے ہیں۔دعوے یہ ہیں کہ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں ، خدا کی محبت لوگوں میں پیدا کرتا ہوں پھر عقل سے منوا تا ہوں کسی قسم کا جبر نہیں کرتا۔یہ وہ بہترین چیز ہے جو قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔مگر ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں؟ خواہ ایک چیز کتنی عمدہ ہو لیکن اگر ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو ہمارے لئے اس کا اچھا ہونا یا نہ ہونا برا بر ہے۔کسی کو بخار چڑھا ہو اور اس کی جیب میں کو نین بھی ہومگر وہ خود نہ کھائے اور دوسروں کو بتائے کہ بخار دور کرنے کے لئے بہت مفید چیز ہے تو اس سے اسے کیا فائدہ ہوگا۔اسی طرح ایک شخص کنویں کے پاس پیاسا بیٹھا ہومگر پانی نہ پئے تو اس کی پیاس کس طرح مجھ سکے گی۔پس جب تک ہم قرآن کریم پر عمل نہ کریں وہ باتیں جو اس میں بیان کی گئی ہیں ان سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس آیت میں قرآن نے دو باتیں بیان کی ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔اب ہمیں دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا ہماری زندگیاں ایسی ہیں کہ ہم لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں یا یہ کہ دوسرں کو بلانا تو الگ رہا خود ہی خدا کی طرف جاتے