سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 117
سيرة النبي عمال 117 جلد 3 دلیلیں دیں۔قرآن کریم کا قاعدہ ہے کہ بات کے آخر میں ایک یا دولفظوں میں خلاصه بیان کر دیتا ہے۔یہاں دو دعوے پیش کئے گئے تھے اور خاتمہ پر دولفظوں میں ان کا ثبوت بیان کر دیا - هذِهِ سَبِيلِي اَدْعُوا إِلَى اللهِ کے متعلق سُبحن الله فرمایا کہ اللہ ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے اور کامل ذات ہے۔اَدْعُوا إِلَى اللهِ میں بتایا تھا کہ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔اس پر سوال ہوسکتا تھا کہ کیوں خدا کی طرف جائیں، اس میں کیا فائدہ ہے ؟ اس کے متعلق فرمایا سُبحن اللہ وہ ذات کامل اور پاک ذات ہے اگر تم کامل بننا چاہتے ہو تو کامل ذات کی طرف آؤ۔یہ فطرتی تقاضا ہے کہ جو کام کیا جائے اس کا کوئی مقصد ہونا چاہئے اور خدا کی طرف جانے کا مقصد یہی ہے کہ کمال حاصل ہو اور یہ خدا ہی سے حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی کامل نہیں ہے اس لئے بتایا سبحان اللہ اللہ تمام عیوب سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے اور وہی کامل ہے اس لئے اسی کی طرف جانے سے کمال حاصل ہوسکتا ہے۔دوسری بات جو یہ کہی تھی کہ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي اس کے متعلق فرمایا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ دلائل پر قائم ہونے کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ادھر ادھر نہیں مارا مارا پھرتا اس کے سامنے ایک گول (Goal) اور مقصد ہوتا ہے تمہاری بھی یہی حالت ہو جائے گی۔مشرک کون ہوتا ہے؟ وہ کہ جو چیز دیکھتا ہے اسے اپنا معبود بنا لیتا ہے۔اگر پہاڑ دیکھا تو اس کے آگے جھک گیا، دریا دیکھا تو اسے پوجنے لگ گیا، کوئی درندہ ملا تو اسے معبود بنا لیا گویا وہ ایک آوارہ گرد کی طرح ہوتا ہے یہ نہیں جانتا کہ خدا کس طرف جانے سے مل سکتا ہے۔مگر مومن اس طرح نہیں کرتا اس کے سامنے ایک کامل اور واحد ذات ہوتی ہے اور وہ اس کے پانے کے لئے کوشش کرتا ہے۔پس مومن اور مشرک میں فرق یہ ہے کہ مومن کی مثال اُس معالج کی طرح ہوتی ہے جو سائنٹیفک طریق پر علاج کرتا ہے جو مرض دیکھتا ہے اور اس کے مطابق دوا دیتا