سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 119

سيرة النبي عمال 119 جلد 3 ہیں۔اگر غور کریں تو مسلمانوں میں سے بہت کم ہوں گے جو اس طرف توجہ کرتے ہوں۔ان کے مقابلہ میں عیسائی اور دوسرے مذاہب والوں میں اپنے اپنے مذہب سے بہت زیادہ تعلق پایا جاتا ہے اور وہ دوسروں کو بھی اپنے مذاہب کی طرف لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اس وقت انگلستان میں دہریت کا بہت زور ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ دہریت نے عیسائیت کو بہت بگاڑ دیا ہے مگر باوجود اس کے ان لوگوں کو حضرت عیسی سے جو وابستگی ہے اس میں فرق نہیں آیا۔وہ لوگ اس بات کو مذہب سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسی سے محبت اور اخلاص رکھیں اور اسے چھوڑنے کے لئے وہ کسی صورت میں بھی تیار نہیں خواہ وہ عیسائی رہیں یا نہ رہیں دہر یہ بن جائیں یا کچھ اور حضرت عیسی سے انہیں جو تعلق ہے اس میں کمی آنے نہیں دیتے۔اس میں وہ ایسے پختہ ہیں کہ عیسائیت کی تبلیغ کے مرکز آکسفورڈ اور کیمبرج سمجھے جاتے ہیں جہاں یو نیورسٹیاں ہیں اور جہاں نوجوان تعلیم پاتے ہیں۔ہمارے بعض دوست وہاں گئے تو انہیں اس قسم کا لٹریچر ملا جو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے شائع کیا گیا تھا۔وہاں انجمنیں بنی ہوئی ہیں جو سوالات بنا کر شائع کرتی ہیں اور لوگوں سے جواب حاصل کرتی ہیں۔وہ سوالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جواب دینے والے مجبور ہوتے ہیں کہ عیسائیت سے 09- محبت کا اظہار کریں۔اس کے مقابلہ میں ہمارے کالجوں کے طلباء کو دیکھو وہ کیا کرتے ہیں۔یہی نہیں کہ دوسروں کو اسلام کی طرف متوجہ نہیں کرتے بلکہ خود ان کے دلوں میں شکوک اور شبہات پیدا ہوتے ہیں۔بیشک اس کی ذمہ داری علماء پر پڑتی ہے کہ کیوں انہوں نے اسلام کو ایسے رنگ میں پیش کیا جس سے اعتراض وارد ہوتے ہیں مگر اعتراض کرتے تو نوجوان ہی ہیں۔پھر ان کی توجہ اسلامی احکام کی تعمیل کی طرف نہیں۔ہزار میں سے پانچ سات نماز پڑھتے ہوں تو پڑھتے ہوں باقی نہیں۔اُدھر عیسائیوں کو دیکھو ان کا مذہبی جوش دیکھ کر لطف آ جاتا ہے جہاں مسلمانوں کی مذہبی حالت دیکھ کر رقت پیدا