سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 94
سيرة النبي علي 94 جلد 3 ماں باپ خود معمولی کپڑے پہنتے ہیں لیکن بچوں کو اعلی کپڑے پہناتے ہیں۔خود معمولی کھانا کھاتے ہیں مگر اپنے بچوں کو اعلیٰ کھانا کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی قربانیوں پر نظر مارنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے جذبات ہی کو دائمی صداقتوں کے قیام اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے قربان نہیں کیا بلکہ اپنے رشتہ داروں کے جذبات کو بھی قربان کر دیا ہے۔اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ مسلمانوں کو بہت بڑی فتح ہوئی اور مسلمانوں کی آسودگی کے سامان پیدا ہو گئے تو آپ کی پیاری بیٹی فاطمہ نے آپ سے کہا کہ کام کرتے کرتے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں لوگوں کو اتنے اموال اور نوکر ملتے ہیں ایک لونڈی مجھے بھی دے دی جائے۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا یہ چھالے اس سے اچھے ہیں کہ اس مال سے تمہیں کچھ دوں۔تم اس حالت میں خوش رہو کہ یہی خدا تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے 61۔رسول کریم ﷺ کا بھی اس مال میں حق تھا اور آپ جائز طور پر اس سے لے سکتے تھے مگر آپ نے یہ دیکھ کر کہ ابھی مسلمانوں کی ضرورت بہت بڑھی ہوئی ہے اس مال میں سے کچھ نہ لیا اور اپنی نہایت ہی پیاری بیٹی کی تکلیف کو برا دشت کیا۔آپ کا اپنی بیویوں کے جذبات کی قربانی کرنے کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں۔دوستوں کے جذبات کی قربانی اس کے متعلق میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ان کی کسی صلى الله ع وساد یہودی سے گفتگو ہوئی۔یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کریم۔فضیلت دی۔اس پر حضرت ابو بکر کو غصہ آ گیا اور آپ نے اس سے سختی کی مگر جب یہ بات رسول کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ حضرت ابوبکر سے ناراض ہوئے اور فرمایا آپ کا حق نہ تھا کہ اس طرح اس شخص سے جھگڑتے 62۔بظاہر یہ قربانی معمولی بات معلوم ہوتی ہے مگر عظمند جانتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے