سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 95
سيرة النبي عمال 95 95 جلد 3 لئے جو ہر وقت دشمنوں سے گھرا ہوا ہو دوستوں کے جذبات کا احترام کیسا ضروری ہوتا ہے۔مگر آپ نے دوسرے لوگوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے کبھی اپنے دوستوں کے جذبات کی پرواہ نہیں کی۔اس قسم کی قربانی کی دوسری مثال کے طور پر میں صلح حدیبیہ کا ایک مشہور واقعہ پیش کرتا ہوں۔اس صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ سے بھاگ کر اور مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا۔لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جاوے گا۔ابھی یہ معاہدہ لکھا ہی جا رہا تھا کہ ایک شخص ابو بصیر نامی مکہ سے بھاگ کر آپ کے پاس آیا۔اس کا جسم زخموں سے چور تھا بوجہ ان مظالم کے جو اس کے رشتہ دار اسلام لانے کی وجہ سے اس پر کرتے تھے۔اس شخص کے پہنچنے پر اور اس کی نازک حالت کو دیکھ کر اسلامی لشکر میں ہمدردی کا ایک زبر دست جذ بہ پیدا ہو گیا۔لیکن دوسری طرف کفار نے بھی اس کے اس طرح آنے میں اپنی شکست محسوس کی اور مطالبہ کیا کہ بموجب معاہدہ اسے واپس کر دیا جائے۔مسلمان اس بات کے لئے کھڑے ہو گئے کہ خواہ کچھ ہو جائے مگر ہم اسے جانے نہ دیں گے۔انہوں نے کہا ابھی معاہدہ نہیں ہوا اس لئے مکہ والوں کا کوئی حق نہیں کہ اس کی واپسی کا مطالبہ کریں۔مگر چونکہ رسول کریم علیہ فیصلہ فرما چکے تھے کہ ہر مرد جو مکہ سے آئے گا اسے واپس کیا جائے گا آپ نے اسے واپس کئے جانے کا حکم دے دیا 63 اور مسلمانوں کے جذبات کو وفائے عہد پر قربان کر دیا۔مال کی قربانی آپ کی مالی قربانی کے لئے کسی خاص واقعہ کی مثال دینے کی ضرورت نہیں۔ہر اک شخص جانتا ہے کہ جب سے آپ کے پاس مال آنا شروع ہوا آپ نے اسے قربان کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ سب سے پہلا مال آپ کو حضرت خدیجہ سے ملا اور آپ نے اسے فوراً غرباء کی امداد کے لئے تقسیم کر دیا۔