سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 90
سيرة النبي علي 90 جلد 3 قربانیوں کی شقیں جس طرح قربانیاں کئی اقسام کی ہوتی ہیں اسی طرح وہ کئی شقوں کی بھی ہوتی ہیں مثلاً (1) شہوات کی قربانی یعنی شہوات کو مٹا دینا (2) جذبات کی قربانی یعنی جذبات کو مٹا دینا (3) مال کی قربانی (4) وطن کی قربانی یعنی وطن چھوڑ دینا (5) دوستوں کی قربانی (6) رشتہ داروں کی قربانی یعنی خدا کے لئے ان کو چھوڑ دینا (7) عزت کی قربانی یعنی خدا تعالیٰ اور دائی صداقتوں کے لئے ذلت کو برداشت کرنا یا عزت حاصل کرنے کے مواقع کو چھوڑ دینا ( 8 ) آرام کی قربانی (9) آسائش کی قربانی (10) آئندہ نسل کی قربانی۔(11) رشتہ داروں کے احساسات کی قربانی (12) اپنی جان کی قربانی (13) دوستوں کے احساسات کی قربانی۔اب میں یہ بتلاتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ سب قسم کی قربانیاں کی ہیں۔شہوات کی قربانی (1) شہوات کی قربانی۔اس سے ثابت ہے کہ آپ نے جوانی کی عمر میں ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے شادی کی۔اور آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ آپ کی بیوی آپ کو اپنی طرف مائل نہ رکھے بلکہ آپ دنیا کی ترقی کے متعلق کوششوں میں مشغول رہ سکیں۔جس وقت آپ نے یہ شادی کی ہے اُس وقت آپ نے ابھی نبوت کا دعویٰ نہ کیا تھا اور مذہبی وجہ سے آپ سے اخلاص کی صورت پیدا نہ تھی۔پس آپ سمجھتے تھے کہ جوان عورت کی خواہشات چاہیں گی کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے اس لئے آپ نے ادھیڑ عمر کی عورت سے شادی کی اور یہ آپ کی بہت بڑی قربانی تھی۔آپ اُس وقت 25 سال کے جوان تھے اور آپ کی جسمانی حالت ایسی تھی کہ 63 سال کی عمر میں بھی صرف چند بال سفید آئے تھے اور آپ ایسے مضبوط تھے کہ آپ ہی نمازیں پڑھاتے تھے اور آپ ہی لشکروں کی کمان کرتے تھے۔پس وہ شخص جو بڑھاپے میں بھی نہایت قوی تھا وہ بھر پور جوانی کے وقت نو جوان عورتوں کو چھوڑ کر ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے