سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 55
سيرة النبي الله 55 جلد 2 شان خاتم النبین ﷺ کا اظہار ع 11 اپریل 1920ء کو حضرت مصلح موعود کے قیام سیالکوٹ کے دوران ایک غیر از جماعت دوست نے ایک دعوت کے موقع پر آپ سے یہ سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے سے رسول کریم علیہ کی کیا فضیلت ظاہر ہوئی ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے آپ نے جو تقریر فرمائی وہ دسمبر 1922ء میں ” خاتم النبین ﷺ کی شان کا اظہار کے عنوان سے شائع ہوئی۔اس تقریر کے بعض حصے درج ذیل ہیں :۔حضرت مرزا صاحب کا حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت سے صلى الله دعوی نبوت ہے۔دنیا میں رسول کریم کی فضیلت عزت ایک نسبتی امر ہے اور علوم اس کا اظہار اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے متعلقات کو دیکھا جائے مثلاً جمعدار کا لفظ ہے۔ایک فوج کا جمعدار ہوتا ہے اور ایک میونسپلٹی کے چوہڑوں کا۔ان میں سے فوج کا جمعدار کیوں معزز سمجھا جاتا ہے؟ اسی لئے کہ اس کے ماتحت معزز افسر اور سپاہی ہوتے ہیں۔لیکن میونسپلٹی کے محکمہ صفائی کے جمعدار کے ماتحت چوہڑے ہوتے ہیں۔تو کسی کی بڑائی کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس کے نیچے بڑے بڑے آدمی ہوں۔دیکھو! ایک 9 فٹ لمبی چیز کیوں بڑی ہوتی ہے؟ اسی لئے کہ اس کے نیچے 7 فٹ 8 فٹ اور ساڑھے آٹھ فٹ تک کی ویسی ہی چیزیں رکھی جاسکتی ہیں۔تو بڑائی کے یہی معنی ہیں کہ اس کے جو ماتحت ہوں ان کو دیکھا جائے جس قدر کسی کے ماتحت بڑے ہوں گے اسی قدر اس کا درجہ بڑا ہو گا ورنہ بڑائی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔