سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 56
سيرة النبي الله 56 جلد 2 اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں 1 اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس سے محبت کرے وہ بھی ہمارا محبوب بن جاتا ہے 2۔اب اگر رسول کریم ﷺ کے آنے پر یہ خیال کر لیا جائے کہ نبوت جو خدا تعالیٰ کا ایک انعام اور فضل ہے وہ رسول کریم ہے کے آنے سے بند ہو گیا ہے تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ ایک دریا بہہ رہا ہو اور بڑا پہاڑ اس میں گر کر اس کو بند کر دے۔گویا یہ کہنا پڑے گا کہ رسول کریم ہے کے آنے صلى الله سے قبل دریائے نبوت جاری تھا لیکن رسول کریم و نعوذ باللہ اس میں پہاڑ کی طرح آپڑے اور اس کو روک دیا۔اب اگر پھسل کر اس دریا کا پانی نکل جائے تو نکل جائے ور نہ پہلے کی طرح وہ نہیں بہہ سکتا۔لیکن یہ رسول کریم ﷺ کی فضیلت اور عظمت کی علامت نہیں بلکہ عظمت کی علامت تو یہ ہے کہ پہلے سے زیادہ زور کے ساتھ فیضانِ نبوت جاری ہو۔پس اگر آپ کا درجہ بڑا ہے اور واقعہ میں بڑا ہے تو ضروری ہے کہ آپ کے ماتحت بھی بڑے بڑے انسان آپ کی امت سے پیدا ہوں۔مثلاً یہ جو کہتے ہیں کہ فلاں جرنیل ہے تو اس کی عظمت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ کرنیل اس کے صلى الله ماتحت ہوتے ہیں۔پس رسول کریم ہے کے غلاموں میں سے جتنے بڑے بڑے انسان پیدا ہوں اتنی ہی آپ کی زیادہ عظمت کا اظہار ہو گا۔ہاں اگر کوئی رسول کریم ﷺ کی غلامی سے آزاد ہو کر اور آپ کی اتباع چھوڑ کر نبی ہونے کا دعوی کرے تو اس سے آپ کی ہتک ہو گی لیکن حضرت مرزا صاحب تو کہتے ہیں بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم3 کہ خدا کے بعد میں محمد عدلیہ کے عشق میں سرشار ہوں اگر اس کا نام کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کا فر ہوں۔کیا ایسے نبی کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ