سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 493

سيرة النبي ع 493 جلد 2 ے سے ہمیں الگ نہیں کر سکتا۔یہ مقاصد خاموش جلسوں سے پورے نہیں ہو سکتے جو ان کے لئے آگ کی ضرورت ہے مگر وہ آگ نہیں جو جلا دیتی ہے بلکہ وہ آگ پکانے والی ہے۔پس ہم آگ پیدا کریں گے مگر فساد اور لڑائی کی آگ نہیں بلکہ وہ آگ جس سے عمدہ غذائیں پکتی ہیں تا کہ امن قائم ہو۔اس کے لئے بڑی بھاری آرگنائیزیشن کی ضرورت ہے اور تمام قوموں سے تعاون کی ضرورت ہے زیادہ تر ان صوبوں میں جن کی زبانیں ہم سے مختلف ہیں۔یو۔پی ، بہار، پنجاب اور سرحد میں بھی ضرورت ہے مگر زیادہ تر بمبئی ، مدراس، سی پی، برہما، مالا بار کے متعلق ہے۔ان علاقوں کی احمدی جماعتوں کو اپنی مرکزی انجمنیں بنانی چاہئیں۔یوں بھی ایسی مرکزی انجمن کی ضرورت ہے۔صوبہ بنگال کے احمدیوں نے ایسی انجمن بنائی ہوئی ہے۔اسی طرح دوسرے تمام صوبوں میں بھی ہونی چاہئیں۔پھر دوسری انجمنوں کو خواہ وہ ہندوؤں کی ہوں یا سکھوں کی ، عیسائیوں کی ہوں یا پارسیوں کی تعاون کے لئے کہنا چاہئے۔پھر اپنے اپنے صوبوں کے بڑے بڑے شہروں اور قصبوں کی لسٹ بنا کر دیکھنا چاہئے کہ ان میں سے ہر ایک میں 20 جون 1928 ء کو جلسے کرنے کا انتظام ہو گیا ہے یا نہیں۔اور کالجوں کے طلباء کو تیار کرنا چاہئے۔اس تحریک کے مذہبی، اخلاقی اور تمدنی فوائد کے علاوہ سیاسی فوائد بھی ہیں۔پس ضرورت ہے ایک نظام کی۔یہاں مرکز میں بھی اس کام کے لئے بہت سے آدمیوں کی ضرورت ہے کیونکہ خط و کتابت کثرت سے کی جائے گی۔مختلف زبانوں میں اشتہار شائع کئے جائیں گے۔بہت سی زبانیں جاننے والے یہاں موجود ہیں وہ اگر اپنے آپ کو اس لئے پیش کریں کہ روزانہ کچھ گھنٹے وہ اس کام کے لئے دیا کریں گے تو بغیر زائد عملہ کے بہت سا کام ہو سکتا ہے مگر جو اپنے نام پیش کریں وہ ایسے ہوں جو کام کرنے والے ہوں۔بعض ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ٹیپ کے مصرعہ کی طرح یہ طریق اختیار کیا ہوا ہے کہ جب میری طرف سے کوئی تحریک ہو وہ اپنا نام پیش کر دیں مگر کبھی کام نہیں