سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 494
سيرة النبي عمال 494 جلد 2 کرتے۔اس طرح نام پیش کرنا فضول ہے۔وہ لوگ اپنے نام لکھا ئیں جو کام کریں۔ہر زبان کے لوگ اگر اپنے آپ کو پیش کریں تو مفید ہوسکتا ہے کیونکہ اس طرح خط و کتابت کے ذریعہ تمام ملک میں جوش کی لہر پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر ان جلسوں کا یہی نتیجہ نکل آئے کہ ایک ہزار مسلمان رسول کریم ﷺ کی لائف پڑھ لیں تو کتنا فائدہ ہوگا۔اس کے لئے وہ سیاسی آدمی بھی تیار ہو جائیں گے جو عام مذہبی جلسوں میں نہیں جاتے اور جب وہ اس مضمون پر لیکچر دینے کے لئے تیاری کریں گے تو رسول کریم ﷺ کی محبت ان میں پیدا ہو جائے گی۔پس میں یہاں کی جماعت اور باہر کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ابھی سے اس بات کا انتظام کریں کہ ہر جگہ اور ہر طبقہ کے لوگ لیکچر دے سکیں۔یوں تو ایک ہزار آدمی یہاں سے اور اردگرد کے گاؤں سے مہیا ہو سکتے ہیں اور کوئی تعجب نہیں قادیان سے ہی ایک ہزار آدمی ایسے مل جائیں لیکن اس کا فائدہ نہیں ہوگا۔یہاں سے لوگ کلکتہ، مدراس، ڈھاکہ اور رنگون نہیں جا سکتے۔اور اگر ان علاقوں میں یہاں سے آدمی بھیجیں تو چار پانچ سال کی آمدنی ان کے آمد ورفت کے خرچ پر ہی صرف ہو جائے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علاقہ میں مرکزی جماعتیں پیدا ہوں اور وہ اپنے علاقوں کے لئے خود آدمی کھڑے کریں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ٹریکٹ اور ہدایات شائع کریں مگر ان کو پھیلانا دوسری جماعتوں کا کام ہے۔(الفضل 3 فروری 1928ء)