سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 451
سيرة النبي عالم 451 جلد 2 رسول کریم اللہ کا خوف خدا حضرت مصلح موعود 23 دسمبر 1927ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ کا طریق تھا کہ آپ ہر جگہ اور ہر موقع سے اس کے مطابق عبرت حاصل کرتے اور صحابہ کو اس طرف توجہ دلاتے۔ایک دفعہ جنگ کے لئے جا صلى الله رہے تھے کہ رستہ میں ایک ایسی قوم کے کھنڈر پڑے جس پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تھا۔رسول کریم ﷺ نے دیکھا لوگ اس جگہ آرام سے بیٹھے اور کھانے پکانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ان کھنڈرات کو دیکھ کر آپ پر گہرا اثر ہوا۔اور آپ نے صحابہ سے فرمایا یہاں خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے یہاں سے خشیت پیدا ہونی چاہئے۔اور فرمایا یہاں سے جلدی سامان اٹھا لو اور نکل چلو 1۔اس وقت جو لوگ آٹے میں پانی ڈال چکے تھے انہیں فرمایا آٹا پھینک دو۔غرض اس جگہ سے آپ نے جلدی چلنے کا حکم دیا اور فرمایا جہاں خدا کا عذاب نازل ہوا ہو وہاں نہیں ٹھہر نا چاہئے۔خدا کا عذاب صرف اسی خاص جگہ نازل نہیں ہوا تھا ہر جگہ اور ہر بستی میں ایسے مقام نظر آ سکتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے غضب کے مورد ہو چکے ہیں۔کئی گھر ایک جگہ ایسے آباد نظر آتے ہیں کہ سارا گاؤں یا سارا شہر ان کی آبادی پر حیرت ظاہر کرتا ہے۔مگر ان پر ایسی تباہی آتی ہے کہ کوئی انسان ان میں باقی نہیں رہتا۔اس خاندان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔اس کے آثار بالکل ناپید ہو جاتے ہیں۔ایسے گھروں سے بھی انسان عبرت حاصل کر سکتا ہے۔مگر ہمیں گھروں کو بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں۔اگر اپنی حالت پر ہی نظر ڈالیں ، اگر ہم صرف یہی دیکھیں کہ ہم کیا چیز تھے اور اب کیا ہیں تو صاف نظر آ جاتا ہے