سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 450
سيرة النبي ع 450 جلد 2 سزا ہو۔باقی قانون جو سزا دے سکتا ہے حکام اتنی ہی دیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے کہ وہ اسلام کی خدمت ایسے مستقل طریق سے کریں جس میں تزلزل نہ واقع ہو۔ان کا استقلال اور ثبات نہ جائے۔وہ ایسے کاموں میں دخل نہ دیں جو شریعت کے خلاف ہوں۔انہیں اتنا تو سوچنا چاہئے کیا شریعت ہمیں بے بس چھوڑ دے گی اور اسلام بغیر ہتھیار چھوڑ دے گا۔ہر جرم کو روکنے کے لئے اسلام میں شرافت اور امن کے ساتھ استعمال کرنے والے ذرائع موجود ہیں۔مثلاً تمدنی ترقی کا ذریعہ ایسا ہے کہ اس سے ہم اس قوم کی آنکھیں کھول سکتے ہیں جو ہمارے مذہب پر نا پاک حملے کرتی ہے۔ایسے ذرائع کو چھوڑ کر فساد پھیلانے والے طریق اختیار کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے جو اسلام کی ترقی کے لئے مفید ہیں اور ایسے لوگوں کو ہدایت دے جو اپنے نفسانی جوش کے ماتحت اسلام کی بدنامی کا موجب ہو جاتے ہیں۔“ (الفضل 8 نومبر 1927ء) ا