سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 452
سيرة النبي علي 452 جلد 2 کہ ہر مسلمان ایک مٹا ہوا نشان ہے۔آج ہی میں نے ان عورتوں کو جو جلسہ کی کارکن ہیں اور جنہوں نے عورتوں کے متعلق جلسہ میں انتظام کرنا ہے نصیحت کرتے وقت کہا تھا کہ ہمارے لئے کیسی عبرت کی جگہ ہے کہ ہندوستان وہ ملک ہے جہاں چھ سو سال تک ایک مسلمان چپڑاسی کی بھی کوئی بہتک کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔لیکن اب یہی ملک ہے جہاں ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری شنوائی کے حلقہ کے اندر محمد رسول اللہ علیہ کو بھی گالیاں دی جاتیں اور ہمیں بھی برا بھلا کہا جاتا ہے مگر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔پھر کیا ہندوستان کی چپہ چپہ زمین ہمارے لئے عبرت کی جگہ نہیں ہے؟ پس ہمارے اپنے وجود ہی ہمارے لئے عبرت کی جگہ ہیں۔ہم کن باپ دادوں کی اولاد ہیں؟ ان کی کہ جو اٹھے تو کوئی طاقت ان کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکی اور جب انہوں نے اپنی گردنیں اونچی کیں تو دنیا کی گردنیں ان کے آگے جھک گئیں۔مگر اب ہر شعبہ زندگی میں مسلمان ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں۔“ ( الفضل 3 جنوری 1928ء) 1 بخاری کتاب المغازی باب نزول النبى الله الحجر صفحہ 752 حدیث نمبر 4419، 4420 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية