سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 442
سيرة النبي علم 442 جلد 2 وجہ سے جھوٹے گواہ بنالئے جاتے ہیں۔لیکن اس بات کے تسلیم کرنے میں یہ دقت ہے کہ ان لوگوں کے اپنے بیانات ایسے ہیں جو ان پر الزام لگاتے ہیں۔پس اس حالت صلى الله ہے میں کہ وہ اپنی زبان سے ایک رنگ میں اقرار جرم کرتے ہیں ہمارے لئے مشکل کہ ہم مجسٹریٹوں کے فیصلوں پر اعتراض کریں یا انہیں غلط قرار دیں۔پس جہاں تک ہماری عقل جاتی ہے ہم مجسٹریٹوں کے فیصلہ کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں اور یہ کہنے سے نہیں رک سکتے کہ اگر فی الواقعہ ملزموں نے یہ فعل کیا ہے تو نہایت نا پسندیدہ اور قابل اعتراض فعل کیا ہے۔ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ پچھلی تحریروں کی دشمنی کی وجہ سے نہیں بلکہ ہندوؤں کے اشتعال دلانے سے ایسا ہوا ہے جیسا کہ ایک ملزم نے اپنے بیان میں کہا بھی ہے کہ میں دکان کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ہندوؤں نے رسول کریم کی ہتک کی اور اس پر لڑائی ہوگئی تو پھر ان کا جرم، جرم نہیں رہتا بلکہ خود حفاظتی ہو جاتی ہے۔اگر کچھ لوگ کسی پر حملہ کر دیں تو اس کے ہاتھوں کسی کا زخمی ہو جانا خود حفاظتی ہو گی۔لیکن اس بات کو ان کے اپنے بیان ہی رد کرتے ہیں اور جب تک ان کے وہ بیان موجود ہیں جو انہوں نے عدالت میں دیئے ہم مجبور ہیں کہ تسلیم کریں کہ ان کی خود حفاظتی کی حالت نہ تھی بلکہ جیسا کہ مجسٹریٹ نے فیصلہ کیا ہے انہوں نے غلط خیال اور غلط عقیدہ کے ماتحت ایک نادان کی دوستی کے رنگ میں حملہ کیا اور اسلام ایسے حملہ کو حقارت اور نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔اور میرے نزدیک ان کے اس فعل نے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ نقصان پہنچایا ہے کیونکہ دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ اسلام ایسا مذہب ہے جو جوش اور تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔مسلمان واقف ہیں کہ ان کے دشمنوں کی قلمیں بہت تیز اور ان کی زبانیں لمبی ہیں۔وہ سینکڑوں انسانوں کے خون بہا کر اور ہزاروں گھروں کو جلا کر ، بہت سے بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوائیں بنا کر اپنے قلموں کی تیزی اور اپنی زبانوں کی لمبائی کی وجہ سے دنیا میں مجرم قرار نہیں پائے۔مسلمانوں کے پاس نہ قلمیں ہیں نہ زبانیں، نہ روپیہ نہ رسوخ۔اس لئے خواہ