سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 441

سيرة النبي عمال 441 جلد 2 ہے کہ بعض مسلمانوں نے بعض ہندوؤں پر حملہ کیا۔وہ مسلمان اپنے گھروں اور اپنے محلوں سے چلے اور ہندوؤں کے محلوں اور ان کی درگاہوں پر جا کر انہوں نے حملہ کیا اور اس طرح ان کو زخمی کیا اور ایک کے متعلق تو کہا جاتا ہے اسے مار ڈالا۔شاید وہ اپنے نزدیک (اگر انہوں نے یہ فعل کیا ہے ) خیال کرتے ہوں گے کہ انہوں نے اسلام کی خدمت کی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ بھی جو اسلام کی طرف سے تلوار چلانے کو نا پسندیدگی کی نظر سے نہ دیکھتے تھے وہ بھی اب کھلے الفاظ میں ایسے لوگوں کے افعال سے حقارت اور نفرت کا اظہار کر رہے ہیں اور بعض مسلمانوں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ہم شرم کے مارے گرد نہیں اونچی نہیں کر سکتے۔میں کہتا ہوں انہوں نے صحیح لکھا ہے اور اگر واقعہ میں ان میں یہی احساس پیدا ہوا ہے کہ وہ شرم کے مارے گردنیں اونچی نہیں کر سکتے تو میں یہ نہیں کہوں گا کہ انہوں نے برافعل کیا بلکہ میرے لئے یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ جو شخص اسلام کی عزت کی حفاظت کی خاطر ایسا جوش رکھتا ہے اور ہر وہ بات جو اسلام کی بدنامی کا موجب ہو اس پر شرم محسوس کرتا ہے تو یہ اس کی اسلام سے محبت کی علامت ہے۔میں نے جب یہ واقعہ پڑھا کہ اس طرح ایک ہندو پر حملہ ہوا ہے تو اُس وقت میں شملہ میں تھا۔اُس وقت میں نے ہر مجلس میں اس فعل پر اظہار نفرت کیا۔ہندوؤں کے سامنے کم ،صرف ایسے ہندوؤں کے سامنے جنہوں نے اس کے متعلق سوال کیا اور مسلمانوں کے سامنے زیادہ کیونکہ میرے نزدیک اس امر کی تعلیم کی ضرورت مسلمانوں کو تھی کہ ان کے دلوں میں اسلام کی حمیت، حمیت جاہلیہ کے طور پر پائی جاتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔میرا خیال ہے اس قسم کا دوسرا حملہ میرے قادیان میں آجانے کے بعد ہوا۔اسے بھی میں نے سخت نا پسند کیا۔درحقیقت ہمارا یہ حق تو نہیں کہ یہ کہ سکیں کہ جن کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے حملہ کیا وہ مجرم تھے یا نہیں۔لیکن ایک بات ہے جوکھٹکتی ہے اور وہ ان کے اپنے بیانات ہیں جو انہیں مجرم بناتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہندومسلمانوں کی دشمنی کی